ذات الجنب یا پلورسی (انگریزی: Pleurisy) کے مرض میں پھیپھڑے کے غلاف میں جس کو انگریزی میں پلورا کہتے ہیں۔ ورم ہو جاتی ہے۔ یہ کبھی ایک طرف ہوتی ہے۔ کبھی دونوں طرف۔

علامات مرضترميم

پلورسی کا حملہ یکایک ہو جاتا ہے بخار کے ساتھ درد شروع ہو جاتا ہے۔ پستان کے زیریں سخت چبھن پڑنے لگتی ہے اور ایسا تیز درد ہوتا ہے گویا کوئی برچھی چبھو رہا ہے۔ کھانستے وقت زیادتی ہوتی ہے۔ ماؤف جگہ کو دبانے اور گہرا سانس لیتے وقت درد ہوتا ہے مریض مارے درد کے جسم کو حرکت نہیں دے سکتا۔ تاکہ سانس لیتے وقت پھیپھڑے میں زیادہ حرکت نہ ہو اسی لیے بیمار اسی کروٹ پر لیٹا رہتا ہے۔ درد کی ٹیسیں بغل بلکہ ہنسلی کی ہڈی تک محسوس ہوتی ہیں۔ سانس تیز اور کھنچ کر آتا ہے اور تھوڑی تھوڑی خشک کھانسی بھی ہوتی ہے۔ پسلیوں کے درمیانی مقام پر دبانے سے درد ہوتا ہے۔ بیمار سانس پیٹ سے لیتا ہے۔ زبان میلی اور پھٹی ہوئی ہوتی ہے اور اس پر سفید فرجمی ہوئی ہوتی ہے۔ چہرہ سرخ، نبض بھری ہوئی اور تیز چلتی ہے۔ پیشاب کم اور سرخ رنگ کا آتا ہے اگر پلورسی کے ہمراہ پھیپھڑہ بھی متورم ہوگیا ہو تو بلغم بکثرت اور خون آلود آتی ہے۔ حرارتِ جسم بہت بڑھ جاتی ہے یعنی 103 سے 105 تک ہوتی ہے۔ لیکن صرف پلورسی کی حالت میں 101 سے 103 ہوا کرتی ہے۔ یا تو غلاف پھیپھڑے کے دونوں پردے صحت یاب ہو کر اپنی اصلی حالت اختیار کرلیتے ہیں یا دونوں سخت ہو کر آپس میں جڑ جاتے ہیں اور اُن کے درمیان آب خون بھر جاتا ہے اس کو انگریزی زبان میں ہائیڈرو تھارکس کہتے ہیں۔ یا تو یہ آب خون جذب ہو جاتا ہے اور یا پیپ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کی مقدار اتنی بڑھ جاتی ہے کہ پھیپھڑوں اور دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اُن کے فعل میں رکاوٹ واقع ہوتی ہے لیکن جب پیپ بن جائے تو ایسی حالت کو انگریزی میں ایم پاٹی ایما کہتے ہیں۔ یہ مرض کی خراب ترین حالت میں ہوتا ہے اور یا جبکہ پلورسی چوٹ آنے یا زخم لگنے سے پیدا ہو اس آب خون یا خون کی کمی بیشی سے دم کشی پر بڑا بھاری اثر پڑتا ہے کیونکہ زائد ہونے کی حالت میں پھیپھڑہ دب جاتا ہے اور ہوا کر گزر اس میں اچھی طرح سے نہیں ہوسکتا اور بیمار جلدی جلدی سانس لیتا ہے۔

اسباب مرضترميم

ٹھنڈ لگنا یا پسینہ آتے آتے فورًا سردی لگ کر بھیگا ہوا کپڑا پہننے سے رک جانا۔ سینہ پر چوٹ آنا۔ یا زخم لگنا یا آپریشن کرانا یا پسلی کا ٹوٹ جانا۔ اس مرض کے اسباب ہیں۔ بعض اوقات اس مرض کا سبب ٹیوبرکل (مادۂ سل) ہوتا ہے جو کہ پھیپھڑوں کے غلاف ہیں سرایت کر کے اس مرض کو پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ جب یہ بیماری ذاتی طور پر ہوتی ہے تب اکثر اس مرض کا سبب مادہ سل ہوا کرتا ہے۔ اکثر اوقات نمونیا کے ہمراہ پلورسی بھی ہو جایا کرتی ہے۔ پھیپھڑے میں جو ورم ہوتی ہے اس کے باعث غلاف میں بھی ورم ہو جایا کرتی ہے۔ کبھی آس پاس اعضاء کا ورم بڑھ کر غلاف پھیپھڑہ تک پھیل جاتا ہے اور کبھی سوزشی مادہ یا پیپ پھیپھڑوں کے غلاف کے جوف میں جا کر اس مرض کا سبب بنا کرتی ہے۔

بعض دیگر شدید امراض مثلًا خسرہ ، چیچک ، تپ محرفہ ، سوزش گردہ ، وبائی زکام (انفلوانزا) ، زچہ کا بخار (پرپیرل فیور) ، شدید وجع المفاصل وغیرہ کے سبب سے خون میں زہر پیدا ہو جانے کے باعث پلورسی کا مرض پیدا ہو جایا کرتا ہے۔

حوالہ جاتترميم