کُل ذرائعِ علوم صرف تین ہیں یعنی علمِ متصوّرہ، علمِ مصدّقہ اور علمِ وجدانیہ اِن تینوں کو ہم باری باری تفصیلاً بیان کرتے ہیں

علمِ متصوّرہترميم

علمِ متصوّرہ جسے آپ تصور، خیال، سوچ، عقیدہ یا کچھ بھی نام دے دیں اگر وہ علم دائرہِ معقولات و منقولات میں ہو یعنی مسئلہ معقول ہو یا منقول بہرصورت اُس کا اندراج علمِ متصوّرہ ہی میں ہو گا یقیناً یہ انکشاف آپ کے لیے یہ باعثِ حیرت ہو گا کہ عقل اور عقیدہ ایک ہی دائرہ سے کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ عقیدہ تو عموماً عقل کے مخالف سمت میں بیان کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عقیدہ اور عقل ایک ہی کیفیت کے دو مختلف نام ہیں اس میں فرق بس اِس قدر ہے کہ کوئی بھی تصور یا خیال اگر وہ دائرہِ تسلیم و رضا تک نہیں پہنچا تو عقل ہے اور اگر وہ تصور یا خیال تسلیم و رضا کی صورت اختیار کر لے تو عقیدہ بن جاتا ہے، علمِ متصوّرہ کو سمجھانے کی خاطر یہاں پر میں ایک عام فہم معاشی عقیدہ کی مثال دیتا ہوں کہ آپ کا یہ تصور درجہِ تسلیم و رضا تک پہنچ چکا کہ فلاں پرائیویٹ بینک میں اگر اپنی جمع پونجی رکھی جائے تو قطعی طور پر محفوظ رہے گی ایک تنخواہ دار جب اپنی کمپنی یا ادارے کو درخواست کرتا ہے کہ میری ماہانہ تنخواہ فلاں بینک میں منتقل کی جائے تو وہ شخص جو ایک پرائیویٹ بینک میں اپنی خون پسینے کی کمائی رکھنے پر آمادہ ہو چکا بینک کی دیانت پر عقیدہ کا حامل ہے ورنہ وہ ایسا بالکل بھی نہ کرتا کیونکہ یہ اندیشہ تو بہرصورت موجود ہے کہ بینک کسی بھی وقت آپ کی رقم ہڑپ کر سکتا ہے گوکہ وہ ایسا نہیں کرتا اب اسی مثال کی اسلام کے کسی بھی مروجہ عقیدہ کے ساتھ مطابقت قائم کرکے دیکھیں تو معاملہ بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ اگر اسلام کسی عقیدہ کی بنیاد پر اَجرِ عظیم یا وعیدِ شدید کا وعدہ کرتا ہے تو وہ لوگ جو صاحبِ عقیدہ ہیں اُن کی تسلیم و رضا قطعاً غیر منطقی نہیں ہے رہی بات مذہبی عقائد کی تبلیغ کی تو واضح رہے جس طرح بینک کے نمائندے اپنے بینک کی دیانتداری اور راست بازی کی تلقین کرتے ہیں بعینہٖ کوئی بھی صاحبِ عقیدہ اپنے عقائد کی حقانیت کا نہ صرف پرچار کر سکتا ہے بلکہ وہ چاہے تو اِس کی تبلیغ بھی کر سکتا ہے اور یہ سارا معاملہ عین منطقی ہے حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم روز مرہ کی زندگی میں انسانی زندگی سے عقائد کو نکال دیں تو گوشہ نشینی کے سوا ہم کہیں کے نہیں رہتے پس اگر کوئی شخص خدا کا انکار کرتا ہے تو وہ ماورائے راست اِس حقیقت کا برملا اظہار کر رہا ہوتا ہے کہ خدا کے متعلق اُس کا تصور درجہِ تسلیم تک نہیں پہنچا اِس کے برعکس یہ ضروری نہیں کہ کسی کا تصور درجہِ تسلیم تک پہنچا ہوا ہو بلاشبہ دنیا میں عقیدہ سے زیادہ مضبوط اور طاقتور روحانی قوت کوئی نہیں مگر عموماً عقائد کے حامل افراد کا تصور درجہِ تسلیم تک نہیں پہنچا ہوتا یا پھر وہ پوری عمر لاادریت کا شکار رہ کر عقائد کا پرچار کرتے رہتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے کہ اکثرھم لا یعلمون یعنی اکثریت لاعلم ہی رہتی ہے عقیدہ ایک عالمگیر قوتِ متصوّرہ ہے چنانچہ یہ تعلق دوستی رشتے ناتے لین دین اور دیگر معاشرتی معاملات تمام کے تمام عقائد ہی کی بنیاد پر قائم و دائم ہیں پس اگر آپ عقائد کو منہدم کر دیں تو ایک مضبوط اور متوازن معاشرہ قائم ہی نہیں رہ سکتا، زیادہ تر لوگ صرف اس لیے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کے متعلق درجہِ تسلیم تک پہنچ جاتے ہیں چنانچہ پھر کائنات کا ذرہ ذرہ اُن کی اعانت میں مصروف ہو جاتا ہے میاں بیوی کا رشتہ ایک رات بھی نہ قائم رہ سکے اگر اُن دونوں کے درمیان عقائد کو حذف کر دیا جائے بالفرض اگر ہم عقائد کو کنارے لگا کر سوچیں تو پھر جو کچھ باقی بچتا ہے وہ صرف سوچ یعنی پانی کی ایک لہر ہے جو کسی بھی لمحے غائب ہو سکتی ہے سوچ اور عقیدہ میں یہ بنیادی فرق ہمیشہ ملحوظ رہے کہ سوچ ایک کنفیوژن یعنی گھمبیرتا اور عقیدہ کلیرٹی یعنی ایقان ہے سوچ زیادہ سے زیادہ تشکیک پیدا کر سکتی ہے یعنی اگر آپ سوچیں کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے بھی یا نہیں تو اب آپ کے پاس صرف دو راستے بچتے ہیں یعنی آپ لاادریت کا مظاہرہ کریں جیسا کہ اکثریت کرتی ہے یا پھر آپ ایقان یعنی عقیدہ تک پہنچ جائیں کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں قطعِ نظر اِس سے کہ آپ کا ایقان مثبت ہے یا منفی، پس علمِ متصوّرہ کی صرف تین جہتیں ہیں تشکیک (Skepticism) ، لاادریت (Agnosticism) اور ایقان (Believe) ، تشکیک یعنی ایسا کیوں ہے ایسا کیسے ہے لاادریت یعنی میں نہیں جانتا اور ایقان یا عقیدہ یعنی میں نے مان لیا،

علمِ مصدّقہترميم

علمِ مصدّقہ کا تعلق صرف مشاہدہ و تجربہ سے ہے لیکن یہ بات ہمیشہ ملحوظ رہے کہ مشاہدات و تجربات بھی غلط ہو سکتے ہیں چنانچہ اگر آپ رات کے وقت ٹمٹماتے ہوئے ستارے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دور کوئی روشنی کا تُکمہ ٹمٹا رہا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ستارے ہماری زمین جتنی جسامت کے حامل ہیں پس اگر آپ کو پہلی بار کسی نے ایکسپائر کافی پلا دی تو آپ کافی کے متعلق یہ تجربہ قائم کر لیں گے کہ کافی تو زقوم ہوتی ہے اب یہاں پر آپ کا تجربہ بھی مات کھا گیا کیونکہ تازہ کافی کبھی زقوم نہیں ہوتی پس علمِ مصدّقہ ہماری انفرادی یا اجتماعی تصدیق کے علاوہ کچھ نہیں، ستارے تُکمے جتنے ہیں اور کافی کڑوی ہوتی ہے حقیقت نہیں مگر جس نے مشاہدہ اور تجربہ کر لیا اُس کے لیے یہ علمِ مصدّقہ ہے پس علمِ مصدّقہ صرف مشاہدہ اور تجربہ کے گرد ہی گھومتا ہے اِس سے ایک رتی آگے نہ پیچھے،

علمِ وجدانیہترميم

علمِ وجدانیہ صرف گہرے ایقان کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے عقیدے کا آخری مقام وجدان ہے یہ علم جذبات کا مرکز ہے دنیا میں آج تک وجدان سے گہرا اور حقائق کے زیادہ قریب کوئی علم پیدا نہیں ہوا یہ علم انبیا ، اولیاء اور صوفیا کا علم ہے عقیدہ جب اپنے آخری مقام تک پہنچتا ہے تو وہ عشق کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور عشق ایک دیو قامت اور چٹان صفت جذبہ ہے چنانچہ انبیا اِس سے وحی، اولیاء اِس سے الہام اور صوفیا اِس سے مکاشفات حاصل کرتے ہیں وجدان تک رسائی تبھی ممکن ہو سکتی ہے جب کوئی علمِ متصوّرہ اور علمِ مصدّقہ کی کماحقہٗ معرفت حاصل کر چکا ہو ورنہ عموماً لوگ علمِ متصوّرہ اور علمِ مصدّقہ تک ہی محدود رہتے ہیں اور علمِ وجدانیہ کا یا تو یکسر انکار کر دیتے ہیں یا پھر محض لاشعوری ایقان کے قائل ہوتے ہیں وجدان کو صوفیا کی اصطلاح میں علمِ لُدنّی بھی کہا جاتا ہے انبیا، اولیاء اور صوفیا ہمیشہ وجدان ہی کے ذریعے خلقِ خدا کی رہنمائی کرتے رہے ہیں تبھی اُن کا علم حقائق کے زیادہ قریب ہوتا ہے چنانچہ دنیا میں اگر کوئی حق کی جانچ پڑتال کا شغف رکھتا ہے اور وہ علمِ وجدانیہ سے محروم ہے تو بالیقین وہ حقائق تک کماحقہٗ رسائی سے محروم ہے علمِ وجدانیہ کے متعلق علامہ اقبال کے دو بند بطورِ تمثیل پیش کیے جاتے ہیں

اکِ دانشِ نورانی اِک دانشِ برہانی

ہے دانشِ برہانی حیرت کی فراوانی

اِس پیکرِ خاکی میں اِک شے ہے سو وہ تیری

میرے لیے مشکل ہے اِس شے کی نگہبانی

علامہ نے پیکرِ خاکی یعنی انسان کے اندر موجود جس شے کا ذکر کیا ہے وہ درحقیقت علمِ وجدانیہ ہے.


حوالہ جاتترميم

مقالات یکے از نعمان نیئر کلاچوی