رداع بنیادی طور پر جنوب مشرقی یمن کا ایک قلعہ ہے اگرچہ آج کل یہ شہر قلعہ کی دیواروں سے باہر نکل کر پھیل چکا ہے۔ یہ البیضاء کی صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہے اور اس صوبہ دار کے زیر انتظام شہروں میں سے رداع سب سے بڑا اور اہم ترین ہے۔ کسی زمانہ میں یہ شہر ثناء کے بعد یہودی آبادی کا دوسرا بڑا گڑھ تھا۔
رداع، ذمار سے تقریباً 50 کلومیٹر(31 میل) کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس شہر کی سب سے اہم خصوصیت رداع کا قلعہ ہے۔[1]

قلعہ بند شہر رداع کی 1909ء میں لی گئی ایک تصویر

جبل الرداعترميم

یہ 6079 فٹ (1853 میٹر) بلند پہاڑی ہے۔ دنیا کی پہاڑیوں میں بلندی کے حساب سے یہ 1656 نمبر پر ہے۔[2]

مسجد الامیریہترميم

یہ مسجد و مدرسہ طاہری سلطان الظفر امیر بن عبد الوہاب نے پندرہویں صدی عیسوی کے اختتام اور سولہویں صدی عیسوی کے آغاز میں تعمیر کروائی۔ یہ نہایت خوبصورت اور قابل دید کثیر المنزلہ مسجد ہے۔ مرکز میں چھ سفید گنبد ہیں۔ اس کے علاوہ میناروں پر بھی مرکز کی طرز کے گنبد ہیں۔ مرکزی عمارت کے چاروں اطراف برآمدہ ہے جن پر ہر طرف سے تین گنبد دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی تعمیر و مرمت کا کام 1982ء میں شروع کیا گیا جو اب مکمل ہو چکا ہے۔[3]

جنگ الرداعترميم

رداع اکثر و بیشتر جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ جنگ الرداع ایک جاری جنگی محاذ ہے جسے القاعدہ نے یمن کی افواج کے خلاف شروع کیا۔ اس کی وجہ یہ بنی کے القاعدہ نے تین غیر ملکیوں جن میں ایک فن لینڈ کا رہائشی جوڑا اور ایک آسٹریلوی جوان شامل تھا۔ یہ تینوں افراد یمن میں تعلیم کے لیے رہائش پزیر تھے۔ ان یرغمالیوں کی رہائی کی بات چیت کی ناکامی اس جنگ کی وجہ بنی۔

حوالہ جاتترميم