مرکزی مینیو کھولیں

رودر ویدوں میں طوفانوں کا دیوتا ہے ۔ اس کی دو خصوصیت کڑک اور بجلی کی چمک اس کے دو القاب ’گرجنے والا‘ اور سرخ یا ’روشنی کے لہریے چھوڑتا ہوا‘ سے ظاہر ہیں ۔ دونوں الفاظ کا مصدر ایک ہی یعنی ’رد‘ ہے ۔ ویدوں کا رودر اور ڈراوروں کا طوفانوں کا ’سرخ دیوتا‘ ایک دوسرے کا ہم مرتبہ ہیں ۔ بہر حال رگ وید کے کئی ایک پیروں سے پتہ چلتا ہے کہ رودر کو بارش لانے والے خیال کیا جاتا تھا ۔ اس حوالے سے رودر کا ذرخیزی اور لوگوں کی فلاح سے گہرا تعلق تھا ۔ اگرچہ بعض اوقات وہ طوفان برپا کردیتا تھا ، لیکن وہ ساوتر کے قوانین سے باہر نہیں ہوتا تھا ۔ کیوں کہ کرہ ہوائی کے سارے دیوتا اپنے اختیارات اسی سے اخذ کرتے ہےں ۔

رگ وید کی کچھ مناجات ایسی بھی ہیں جہاں رودر کو براہ راست یا بالواسطہ اگنی یا اندر سے متشخص کیا جاتا ہے ۔ اس لیے بعض اوقات موخر الذکر کو بھی ’رعد باراں ‘ لانے والا خیال کیا جاتا ہے ۔ اگنی کے بادلوں سے بارش کی صورت ترواش پانے اور خشک سالی کے ذمہ دار شیطان ورتر پر اندر کے حملے اسی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح رودر بھی مون سون کے بادلوں کو خشکی سے تڑخی زمین کی طرف کی طرف بارش لانے کا اشارہ دیتا ہے ۔ اسی کام میں رودر کو اپنے بیٹوں ماروتوں کی معاونت حاصل ہوتی تھی ۔ جو آندھی کے تھپیڑوں کے ہمراہ بارش کے لبادوں میں لپٹے شیروں کی طرح ڈھاَڑتے چلے آتے ہیں ۔ بعض جگہ انہیں رودر سے بھی منسوب کیا جاتا ہے ۔ کیوں کہ انہیں اس کے بیٹوں کی طور پر متشخص کیا جاتا ہے ۔ رودر کا سو ہتیاروں سے مسلح ہونا بیان کیا جاتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس کے جلو میں بھونکنے والے کتوں کا جلوس ہوتا ہے ۔ عین ممکن ہے کہ رودر اپنی اصل میں وید عہد سے قبل کا دیوتا ہو ۔ اس لیے مناجاتوں میں سے ایک میں اس طرح کے اشارے ملتے ہیں ۔ اتھر وید میں اس بھوشر سے متشخص کیا گیا ہے اور یہ دونوں مویشوں کے مالک ہیں ۔ اکتیسویں اشلوک میں اس کی خادماؤں اور گوسنوں کا کا حوالہ بھی ملتا ہے ۔ جنہیں ’شور برپا کرنے والی‘ کہا گیا ہے ۔ رودر کا ایک متضاد روپ بھی سامنے آتا ہے ۔ جب اسے ’مویشیوں کے کے مالک‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ مویشیوں اور دوسرے پالتو جانوروں کی حفاظت اور ان کےلیے نقصان دہ طوفانی بادلوں پر قابو رکھنا اس سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ مہابھارت اور پرانوں میں اس کا ذرخیزی سے وابستگی والا پہلو زیادہ حاوی ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اس امر کا اشارہ اس اسطورے سے بھی ملتا ہے کہ تخلیق کے دھیان میں بیٹھے برہم کے کام میں مداخلت کی گئی تو تمام تر غضب اس کے ماتھے سے رودر کی شکل میں پھٹا ۔ برہما کے حکم پر اس مجسم غضب نے تقسیم ہو کر مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلی ۔ تقسیم در تقسیم سے گیارہ رودر موجود میں آئے ۔ ان میں کچھ غضب ناک اور کچھ نرم مزاج تھے ۔ وایو پران کی رو سے مونث حصے شیو کی مختلف طاقتیں یعنی شکتیاں ہیں ۔ رودر کے مختلف القابات میں کندا (غضبناک) ، اگر (خوفناک) ، مدھر (سخی) ، شرو (کماندار) اور اشن (حکمران) وغیرہ ہیں ۔

برہما نے رودر سے کہا تمارے گیارہ نام ہیں ۔ میسو ، ہں ، مہن ، شیو ، کرنت ، اگررت ، تہوکاس ، واما ، دھوج اور دھرت ورت اور تم دنیا کو پیدا کرو ۔ اس پر رودر نے بھوت پشاچ ، کشماند اور راکش وغیرہ پیدا کیے ۔ اس اولاد کو دیکھ کر برہما جی پریشان ہو گئی اور کہا انہیں ختم کرکے اچھی اولاد پیدا کرو ۔ اس پر رودر نے ہنس کر کہا اس طرح کی اولاد کو تم پیدا کرو ۔ پھر رودر برہماجی کی پیشانی میں غائب ہو گیا اور دوبارہ پیدا ہونے پر رودر رودیا ۔ اس لیے برہما جی نے رودر نام رکھا ۔ چونکہ یہ سات دفعہ پیدا ہوا اور ہر دفعہ اور زیادہ رویا ۔ اس لیے برہما جی نے اس کے سات نام رکھے ۔ بہو شرو ، اشان ، پشوپتی ، بھیم ، ڈگر اور مہادیو ۔ جب کہ اس کے گیارہ ناموں میں پرانوں اختلاف ہے ۔

شویتا شویتر اپنشد کے مطابق ایک عہد کے خاتمے پر دنیا کو تحلیل کیا جاتا ہے تو صرف رودر ہی متاثر نہیں ہوتا ہے ۔ بلاخر رودر کی اپنی علاحدہ شناخت ختم ہوئی اور یہ مکمل طور پر شیو میں ضم ہو کر رہے گیا ۔ یہ ملاپ دراصل غیر آریائی عقائد کے ویدوں میں سرایت کا نتیجہ تھا یگیہ کے دوران اگنی ہوتر دوبارہ کفگیر کو شمال کی طرف ٹہراتا ہے اور یہ عمل دراصل رودر کے اعزاز میں کیا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے یگیہ کے دوران مقام متعینہ کے شمال میں کھڑے ہونا خطرے سے خالی خیال نہیں کیا جاتا ہے ۔ رودر کے نام کا کوئی ہون نہیں کیا جاتا تھا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ احترام اور تعریف کی بجائے خوف کو زیادہ جنم دیتا تھا ۔ غالباً اسی وجہ سے اس کےلیے مخصوص بھینٹ چوراہے اور ایسی دوسری جگہوں پر رکھی جاتی تھیں جن سے بڑ شگون لیا جاتا تھا ۔

تموگن کی پوجا کرنے والے رودر کی پوجا کرتے ہیں ۔ رودر کے معنی رولا دینے والے کے ہیں ۔ دور جدید میں ہندووَں کا کہنا ہے کہ مہادیو اور شیو ویدوں کا رودر ہے ۔ حالانکہ جب پنچائن پوجا راءج تھی تو پانچ دیوتاؤں سورج ، رودر ، برہما ، شیو اور وشنو کی مورتیاں ایک جگہ بناکر اس کی پوجا کی جاتی تھی ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رودر الگ دیوتا تھا اور اسے شیو بتانا غلط ہے ۔