ضلع ایبٹ آبادکا خوبصورت اور منفرد گاؤں

رچھ بہن ضلع ایبٹ آباد کا خوبصورت اور منفرد گاؤں ہے۔ یونین کونسل پاوہ میں شامل ہے رچھ بہن اس حسین وادی کا سب سے پرانا اور بڑا گاؤں ہے جو صدیوں سے آباد ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یوں ہے۔ آغاز میں اس کا نام رچ بن تھا۔ یہ نام انگریزی اور ہندی الفاظ کا مرکب ہے۔ رچ انگریزی کا لفظ ہے جس کا مطلب گھنا ہے اور بن ہندی کا لفظ جس کا مطلب جنگل ہے، یعنی گھنا جنگل۔ بعض روایات میں رَچھ بن بھی آتا ہے جس کے معنی بھی گھنے جنگل کے ہی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام اپنی ہیئت اصلی سے بدلتے بدلتے رچھ بہن ہو گیا۔ کسی زمانے میں یہاں چیڑھ کے درختوں کا گھنا جنگل تھا۔ اب بھی اس گاؤں کے دونوں اطراف پہاڑوں کی چوٹیوں سے دامن تک چیڑھ کے جنگلات موجود ہیں۔ اس گاؤں کے مختلف مقامات پر صاف پانی کے چشمے اور ندیاں بہہ رہی ہیں جنھیں مقامی زبان میں کسایاں کٹھے کہا جاتا ہے۔ کبھی ان ندیوں کے کنارے کنارے دھان کی فصل اُگائی جاتی تھی۔ ان پانیوں پر جابجا پن چکیاں بھی چلائی جاتی تھیں اس کے کٹھے(دریا)میں لذیذ ترین ٹراؤٹ مچھلی کثرت سے پائی جاتی تھی۔ بچپن میں ہم اس کا شکار کیا کرتے تھے۔ یہ گاؤں ایبٹ آباد سے مغرب کی جانب 23 کلومیٹر پر واقع ہے۔ ایبٹ آباد سے نکلتے ہی شیروان روڈ پر خوبصورت سیرگاہ شملہ پہاڑی ہے جہاں پر لوگ دوردراز سے سیروتفریح کے لیے آتے ہیں۔ کچھ آگے چل کر توتنی گاؤں کے قریب ایک نئی رہائشی سکیم ”سلک ویلی“ بنائی گئی ہے۔ اس کے بعد گاؤں صوبن گلی،بیگاکوٹ، کوٹھیالہ، مبارک اور منڈڑہ سے گزرتے ہوئے رچھ بہن کا گاؤں آتا ہے۔ یہاں پر پیر عبد اللہ المعروف طالب باباؒ کا مزار ہے۔ جن کی سوانح حیات 2013ء میں شائع ہوئی۔ اسی روڈ پر آگے چل کر ایک اور بزرگ ہستی بابا نسیم گُل المعروف فقیر صاحب تھاتھی شریف کا مزار واقع ہے جہاں ہر وقت زائرین کی آمدورفت رہتی ہے۔ رچھ بہن جانے والی سڑک پختہ اور کشادہ ہے۔ اس گاؤں میں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بوائز اور گرلز الگ الگ ہیں۔ 1920ء میں لڑکوں کا پرائمری اسکول قائم ہوا۔1961ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا گیا۔1974ء میں ہائی اسکول اور 1994ء میں ہائرسیکنڈری اسکول کا درجہ دیا گیا۔ اسی طرح لڑکیوں کا اسکول بھی پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک پہنچا ہے۔ اس گاؤں میں ایک ڈسپینسری ہے جو 50 سال قبل قائم ہوئی۔ 1961ء میں اس گاؤں میں ڈاکخانہ کا قیام عمل میں آیا۔ ۔ مین روڈ پر ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے جہاں ضروریات زندگی کی ہر شے دستیاب ہے۔ علاقے کی سہولت کے لیے ایک یوٹیلٹی سٹور بھی ہے، ایک چھوٹا سا ہوٹل اور آٹا چکی بھی ہے۔ ایک بڑی اور قدیم مسجد جامع مسجد گلزار مدینہ گاؤں کے عین وسط میں موجود ہے۔ دینی علوم کے لیے ایک درس گاہ ”مدرسہ تعلیم القرآن“ بھی موجود ہے، جس کے مہتمم راجا محمد صادق ہیں۔ ان کے پاس 1950ء سے اب تک کا ایک رجسٹر موجود ہے جس میں گاؤں کے لوگوں کی پیدائش،نکاح اورانتقال کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔ اس گاؤں کے لوگوں میں مفتی صاحبان، علما کرام، انجینئرز، ڈاکٹرز، سول سرونٹ، وکلا اور پروفیسر صاحبان شامل ہیں جو اپنے اپنے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ آرمی اور محکمہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی بھی کی جاتی ہے۔ اس گاؤں کی آبادی 5 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ہے، گھروں کی تعداد تین سو پچاس سے زائد ہے۔ اس علاقے میں انتخابی فہرست 2021ء کے مطابق ویلج کونسل رچھ بہن کے مرد و خواتین ووٹر کی کل تعداد 2112 ہے۔ اس گاؤں کا کل رقبہ 6596 کنال ہے۔ اس گاؤں کو پانی اور بجلی کی بنیادی سہولیات گھر گھر موجود ہیں۔ پانی کی واحد سولر سسٹم سکیم موجود ہے۔ رچھ بہن کے داخلی موضع جات میں منڈڑہ، شاہ کوٹ، کڑماہٹی، تھالیاں، شقیقہ،اعوان باغ اور ترک آباد شامل ہیں۔ ویلج کونسل رچھ بہن میں سولن بالا، سولن پائیں، گیہال قاضیاں، بانڈہ جگیاں، چڑھیان، چھیتڑی اور تھاتھی شریف شامل ہیں۔ اس کونسل کے موجودہ چیئرمین قاضی ندیم اشرف، کونسلر قاضی جہانزیب اور راجا ضمیر ہیں۔ یوتھ کونسلر قاضی حماد فیاض۔ کسان کونسلر محمد سجاول اعوان اور لیڈی کونسلر نورین وقار ہیں۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 3 فروری 2023 کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے پنچاب اور خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کو صوبائی اسمبلیوں کے جنرل الیکشن کے نتائج تک معطل کر دیا ہے۔ ویلج کونسل کا آفس رچھ بہن کے داخلی موضع منڈڑہ میں واقع ہے جس کے سیکرٹری محمد جاوید ہیں۔ رچھ بہن میں تین اقوام بستی ہیں جن میں اعوان، ترک اور تنولی شامل ہیں [1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تحریر: ریاض ملک