زیپلن (انگریزی: Zeppelin) بیضوی شکل کی Rigid Airships تھیں۔ جس کا ڈایا میٹر 100 فٹ اور لمبائی 776 فٹ تھی۔۔۔۔زیپلن کا فریم ایلومینیم اور کاپر جبکہ باڈی مضبوط فیبرک یا پھر لیدر سے بنائی جاتی تھی۔۔۔یہ ائیر شپس ہیلیم یا بعض حالات میں ہائیڈروجن گیس کی مدد سے پرواز کی جاتی تھیں۔۔۔۔ اسے 5 انجنز کی مدد سے اڑایا جاتا تھا اور عملے کی تعداد 20 سے زائد ہوتی تھی۔

ایجادترميم

زیپلن کی ایجاد 1874 میں جرمن سائنسدان Ferdinand von Zeppelin نے کی۔ تاہم اس کی باقاعدہ ڈویلپمنٹ کا آغاز 1893 میں ہوا۔

رفتارترميم

زیپلن ائیر شپ کی رفتار 73 میل فی گھنٹہ تھی۔ اس کا موازنہ آج کے جنگی طیاروں سے کیا جائے تو F-16 کی رفتار 1500 میل فی گھنٹہ ہے۔

ایلٹیٹیوڈترميم

زیپلن کی پرواز کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 2600 فٹ تھی۔ جس کا موازنہ آج کے جنگی طیاروں سے کیا جائے تو F-16 ۔ 65000 فٹ بلندی پر پرواز کرسکتا ہے۔ استعمال: زیپلن کو بنیادی طور پر مسافر ائیر شپ کے طور پر استعمال کے لیے ایجاد کیا گیا تھا۔ اس میں 50 سے 70 مسافر ، سفر کرسکتے تھے۔ 16 نومبر 1909 کو جرمنی میں دنیا کی پہلی ائیرلائن DELAG کا آغاز ہوا جس کے پہلے بیڑے میں 12 زیپلن شامل تھیں جنہیں زیپلن کارپوریشن نے تیار کیا تھا۔ (یہ ائیر لائن 1935 تک آپریشنل رہی)۔ زیپلنز کی مدد سے لوگ جرمنی سے فرانس جیسے ہمسایہ ملک سے لے کر امریکہ جیسے دوردراز ملک تک سفر کرسکتے تھے۔ ۔

جنگ عظیم اولترميم

جنگ عظیم کے آغاز میں جرمن فوج اور جرمن بحریہ زیپلن کو جاسوسی مقاصد اور دشمن افواج کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔۔۔۔۔جیسے جیسے جنگ آگے بڑھتی گئی زیپلن کا جنگی مقاصد کے لیے استعمال بڑھتا چلا گیا اور انہیں برطانیہ، فرانس اور بیلجیم پر فضائی حملوں کے لیے بمبار ائیرشپس کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ شروع میں زیپلن کو 1600 کلوگرام بموں سے لیس کر کے دشمن شہروں اور دشمن فوج کی پوزیشنز پر بمباری کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ تاہم جیسے جیسے جنگ میں جنگی طیاروں کا استعمال شروع ہوتا گیا ویسے ویسے زیپلن کو خود سے کئی گنا تیز رفتار طیاروں سے بچنے کے لیے مزید ہتھیاروں کی ضرورت پڑتی گئی۔ اور زیپلن میں 4 سے 6 عدد MG08 مشین گنیں بھی نصب کردی گئیں۔ لیکن ۔ اب جنگ میں طیارہ شکن گنز کا استعمال بڑھنے سے سست رفتار زیپلن کے لیے زمین سے بھی مار گرائے جانے کا مستقل خطرہ پیدا ہوچکا تھا۔

نقصاناتترميم

اس جنگ میں جرمنی کی 115 میں سے 77 زیپلنز کو مار گرایا گیا۔ دوسری طرف زیپلن کی بمباری میں صرف لندن میں ہی 700 لوگ جاں بحق جبکہ 4000 زخمی ہوئے۔ جبکہ مجموعی طور پر زیپلنز کے حملوں میں تقریبا 5 ہزار اموات ہوئیں۔ ۔

اختتامترميم

6 مئی 1937 کو مشہور زیپلن "ہنڈنبرگ" پیرس کے مقام پر فضا میں دھماکے سے پھٹ گئی جس کے نتیجے میں 36 لوگ مارے گئے۔ 1937 میں ہی زیپلن کے دور کا خاتمہ ہوگیا۔

حوالہ جاتترميم