سائیں سردار علی سردار (بسراء)

سائیں سردار علی سردار سلسلہ قادری نوشاہی کے بزرگ اورصوفی شعراء میں اہم مقام رکھتے ہیں

پیدائشترميم

سائیں سردار علی 1908ء سیالکوٹ کی تحصیل پسرور الہڑ ریل گاؤں بسراء میں پیدا ہوئے ارائیں خاندان جتالے ذات سے تعلق تھاوالد کا نام الہ دین اور والدہ کا نام ریشم تھا تین بھائی(حسین بخش، نبی احمد سردار علی) اور دو بہنیں(سردار بی بی اور عائشہ بی بی)تھیں۔

بیعتترميم

سلسلہ قادریہ نوشاہیہ کے بزرگ بابا جی چراغ شاہ نوری سے بیعت و خلافت حاصل تھی۔

تصنیفترميم

سائیں سردار علی سردار کی تصوف اور شاعری پرکتاب ’’بابا جی میں ہار گیا‘‘ طبع ہو چکی ہے۔ جس میں چار حصے ہیں جن میں عقائد و مسائل، اسرار و رموز سے لبریز اشعار جو علم باطن و تصوف کا خزانہ اور سالکین راہ ہدایت کیلئے سرمایہ ہے۔

نمونہ کلامترميم

ضبط مسئلہ میتھوں نئیں ہونداکراں کی تقدیر ونگار دی اے راہ رب قرآن سناؤ لوکاںمنگو بھیک نہ شرع پکار دی اے
رب چیریا منہ وچہ رزق پاسی لمی جیبھ اس نفس بدکار دی اے بھکھا مرن نہ دیوے سردار تینوںجنہوں واقفی کل سنسار دی اے
لک لکا دی گل کوئی نئیں آقا بشر نے انھیاں کانیاں لئی حق رب دا نبی نوں بشر کہنا یاں تے جائز اے بے پچھانیاں لئی
کافر سجدیوں تے ہویا رد بشروں دسی ونڈ قرآن سمجھانیاں لئی ماہی مدنی سردار خدا خانہ بشر ہووسی عقل گوانیاں لئی

اولادترميم

آپ نے شادی کی مگر کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے اپنے دو بھتیجوں صاحبزادہ ظفر علی صاحبزادہ عاشق علی کو اپنی اولاد قرار دیا اور انہیں صاحبزادہ سے مخاطب فرماتے۔

وفاتترميم

سائیں سردار علی سردار 104 سال کی عمرمیں 2012ء میں وفات پائی۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. بابا جی میں ہار گیا، سائیں سردار علی سردار، ناشر صاحبزادہ ظفر علی صاحبزادہ عاشق علی بڑے بسراء ڈاکخانہ چونڈہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ