سر الشہادتین شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا ایک مختصر سا رسالہ اس رسالے میں انہوں نے یہ نظریہ اختیار کیا ہے کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت دراصل پیغمبر اسلامؐ ہی کی شہادت ہے۔ سال میں دو مجلسیں ان کے گھر منعقد ہوا کرتی ہیں مجلس ذکرِ وفات شریف اور مجلس شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ اور یہ مجلس بروز عاشورہ یا اس سے ایک دن قبل ہوتی ہے درود شریف پڑھا جاتا اس کے بعد فضائل حسنین رضی اللہ عنہما کا ذکر جو حدیث شریف میں وارد ہے بیان کیا جاتااور جو کچھ احادیث میں ان بزرگوں کی شہادت کا ذکر ہے اور روایات صحیحہ میں جو کچھ تفصیل بعض حالات کی ہے اور ان حضرات کے قاتلوں کی بد عنوانی کا بیان ہے وہ ذکر کیا جاتاہے بعض تکلیفیں جو ان حضرات کو ہوئیں جو روایت معتبرہ سے ثابت ہے بیان کی جاتی ہیں اور اس ضمن میں بعض مرثیہ جو جن و پری سے حضرت ام سلمہ ؓ و دیگر صحابہ نے سنا ہے وہ بھی ذکر کیا جاتاہے اور وہ خواب ہائے وحشت ناک ذکر کیے جاتے ہیں جو حضرت ابن عباسؓ و دیگر صحابہ نے دیکھے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ سے نہایت رنج و الم ہوا ، پھر ختم قرآن مجید کیا جاتا[1]

حوالہ جاتترميم

  1. سرالشھادتین (شرح سرالشہادتین القلم ادارۂ مطبوعات ، اٹک ، پاکستان