سیّد محمد جمال اللہ رامپوری

(شاہ جمال اللہ سے رجوع مکرر)
حضرت حافظ سیّد محمد جمال اللہ رامپوری قدس سرہٗ

حضرت حافظ سیّد محمد جمال اللہ رامپوری قدس سرہٗ [1]ترميم

گجرات (پاکستان) 1137ھ

4صفر 1209ھ

رام پور (انڈیا)

1724ء 1794ء

مادہ ئتاریخِ رحلت؛ترميم

وہو العلی العظیم/ 1209منظر حیا/ 1209

تعارُفترميم

اسمِ مبارک سیّد جمال اللہ اور والد ِگرامی کا نام سیّد محمد درویشقدس سرہٗ تھا۔ آپ بخاری سیّدتھے۔ نسبت نامہ حضرت امیر المومنین علی المرتضیٰکرم اللہ وجہہٗتک پہنچتا ہے۔

تعلیم

آپ کو سیرو سیاحت کا بہت شوق تھا۔ اس لئے آپ نے مکمل سپاہیانہ تربیت حاصل کر کے کمال حاصل کیا،بخارا شریف سے سیرو سیاحت کرتے ہندوستان میں مختلف مقامات پر زیاراتِ مشائخ سے مستفید ہوتے رہے۔ اِسی دوران بالآخر حج کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر سرہند شریف (ہندوستان) میں قیام پذیر ہو گئے۔

بیعت

آپ قیامِ سرہند شریف کے دَوران حضرت قطب الدین بخاری قدس سرہٗ کی زیارت سے مستفید ہوئے تو وہیں دل دے بیٹھے۔ بیعت ہو کر عرصہ قلیل میں مجاز ِطریقت ہو گئے اورمستقل سکونت سرہند شریف میں اختیار کر لی۔ سرہند شریف کی ویرانی کے بعد آپ رام پور منتقل ہو گئے اور آخر وقت تک رام پور المعروف مصطفی آباد میں رہے۔ ابتاعِ سنت کا نہایت التزام و اہتمام کرتے آپ اعمالِ ظاہری و باطنی میں کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ دل عشقِ الٰہی سے معمور تھا،صاحبِ دل تھے۔

نگاہ کی تاثیرترميم

آپ کے فیضان سے کثیر خلقت نے فیوضات و برکات حاصل کیں۔ وظائف و اذکار کی کثرت آپ کا معمول تھا۔ آپ کی نگاہ میں اِس قدر تاثیر تھی کہ جو بھی ایک دفعہ دیکھ لیتا فریفتہ ہو جاتا اور زندگی بھر کے لئے آپ کا غلام ہو جاتا۔

رام پور میں ایک دن آپ نے اپنے خلفا سے کہا،آج ہمارا دل چاہتا ہے کہ احمد شاہ بادشاہ کا قلعہ اور باغ دیکھیں اس لئے اپنے وظائف و نوافل سے فارغ ہو جائیں تاکہ معمولات میں کمی نہ ہونے پائے۔ چنانچہ خود بھی معمولات سے فراغت کے بعد دوستوں کے ہمراہ قلعہ شاہی کے نزدیک باغ میں تشریف لے گئے۔ قلعہ کی دیوار پر آئے تو آپ کی نظر مبارک حاجی سیّد شاہ جمال اللہ قدس سرہٗ پر پڑی، آپ کے دل پرا ثر ہوا، دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں اور حضرت خواجہ کی کیفیت بدل گئی اور فوراً دیوار سے اُتر کر حضرت سیّد جمال اللہ قدس سرہٗ کے قدموں میں گر گئے۔ ہوش و حواس درُست ہوئے اور داخل سلسلہ کرنے کی استدعا کی،ع

نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

فیضانِ ولایتترميم

حضرت شاہ جمال اللہ قدس سرہٗ ایک دفعہ دہلی سے اپنے دوستوں کے ہمراہ رام پور جا رہے تھے کہ راستے میں شکار کرنے کی خواہش ہوئی اور ایک جنگل کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے اپنے خادِم شاہ درگا ہیقدس سرہٗ کو ایک جگہ کھڑا کیا اور فرمایا؛ ”اسی جگہ ٹھہریں،واپسی پر ہم آپ کو ساتھ لے لیں گے اور پھر رام پور چلیں گے۔“

شکار کرتے کرتے دیر ہو گئی چنانچہ آپ وہاں سے بمعہ اپنے دوستوں کے ایک نزدیکی گاؤں میں شب بسری کے لئے چلے گئے اور وہاں سے سیدھے رام پور تشریف لے گئے کہ شاہ درگاہی  قدس سرہخود بخود رام پور پہنچ جائیں گے، لیکن شاہ درگاہی رام پور نہ پہنچے اور آپ نے بھی کچھ زیادہ خیال نہ فرمایا۔تقریباً ایک سال بعد آپ پھر اتفاقاً دہلی تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں اُسی مقام پر نہایت غمگین اور گرد آلود لباس میں شاہ درگاہی قدس سرہٗ کھڑے ہوئے تھے۔ کمال شفقت سے دریافت فرمایا؛

”شاہ درگاہی! یہاں کب سے کھڑے ہو؟“

عرض کیا؛ ”حضور!آپ نے خود ہی مجھے یہاں کھڑا کیا تھا، لیکن آپ واپس نہ آئے اور مَیں اِسی جگہ آپ کے انتظار میں کھڑا رہا   ؎

مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو

پلا کے مجھ کو مئے لا اِلٰہ اِلّا ہُو

یہ حال دیکھ کر حضرت سیّد جمال اللہ قدس سرہٗ جوش میں آئے،آپ کو سینہ مبارک سے لگایا اور تصوف و سلوک کی اعلیٰ منازل طے کرا دیں، فرمایا؛”جو کوئی تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اس کو خدا کی معرفت حاصل ہو گی۔“مرشد کے حکم کی تعمیل اِسی کو کہتے ہیں اور اسی سے مرید کو فیض و برکت حاصل ہوتی ہے اور تربیت باطنی ہوتی ہے   ؎

اسی دریا سے اُٹھتی ہے وہ موجِ تندجَولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہہ و بالا

تسلیم و رضا کا پیکر بن جانے کے بعد ہی مرید باصفا کو یہ منصب حاصل ہو سکتا ہے محبت کا دِل باتوں سے نہیں جیتا جا سکتا۔ بہت سے صحراؤں اور بیابانوں کی خاک چھانناپڑتی ہے تب کہیں جا کر مرشد کی بارگاہ میں شرف ِقبولیت نصیب ہوتی ہے۔

سفر آخرتترميم

4صفر المظفر 1209ھ، 1794ء کو آپ کا وِصال ہوا۔ مرقد ِانور رام پور متصل دروازہ عید گاہ مرجع خاص و عام ہے۔ تاریخ وفات منظر حیا  سے نکلتی ہے۔

خلفا ءترميم

1۔ سیّد محمد عیسیٰترميم

2۔ ملا شیر خاں تیراہیترميم

     3۔ سیّد ملا امان تیراہیترميم

    4۔ شاہ فیض بخش المعروف شاہ درگاہی غزنویترميم

5۔ وارث خاں بنارسیترميم

6۔سیّد محی الدین تیراہی قدس اللہ تعالیٰ اسراہمترميم

  1. جواہر نقشبندیہ، مصنف محمد یوسف مجددی. جواہر نقشبندیہ. مکتبہ انوار مجددیہ. صفحات صفحہ نمبر 324.