شاہ ضیاء عرف میانجی

شاہ ضیاء عرف میانجی اور حاجی شاہ ضیاء سے شہرت جبکہ حضرت میانجی کے نام سے معروف ہیں۔
اپنے والد بزرگ حضرت ایشاں شہید میاں ضیاء الحق کے صاحبزادے وخلیفہ ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب اور سلسلہ سلوک شاہ غلام محمد پر جاکر یکجا ہو جاتا ہے۔

شاہ ضیاء عرف میانجی
معلومات شخصیت

القاب و خطاباتترميم

گلدستہ کرامات شمسیہ از غلام نجم الدین کابلی لکھتے ہیں قطب الاقطاب،غوث الاحباب،ثانی مجدد الف ثانی،حضرت حاجی شاہ ضیاء مجدد المعروف حضرت میانجی[1] آپکے والد گرامی نے زندگی میں فرمایا کہ میرے پاس جو علوم باطنیہ تھے میں نے آپ تک پہنچا دیے مزید علوم و معارف کے لیے پنجاب کا سفر اختیار کریں۔ ایک درویش قلندر صفت ملے گا وہ آپ تک پہنچایئگا۔ اپنے والد کی وفات کے بعد حسب الارشاد پنجاب کا سفر کیا بڑی تگ و دو کے بعد وہ بزرگ جن کی نشانیاں والد محترم نے بیان کیں تھیں ایک مٹی کے تودہ پر مدہوش و مستغرق پایا۔ جن انہیں کچھ کھانے کو دیا تو ہوش میں آئے تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھے اور پھر غائب ہو گئے حضرت میانجی بھی ان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور اپنے دوستوں سے بچھڑ گئے۔ کئی دنوں کے بعدجنگل میں ایک چبوترا پر مدہوش پائے گئے لیکن وہ مرد درویش وہاں پر موجود نہ تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ باقی کمالات اس مرد قلندر کی صحبت سے حاصل ہو گئے۔

وصالترميم

آپ کا وصال بروز سوموار 5 شوال 1316ھ 1898ء کو ہوا مزار اقدس کابل سے 20 کوس شمال کی طرف بستی لغمانی میں ہے۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ اولیاء المعروف بالہامات غیبیہ فی سلاسل سیفیہ،صفحہ 139،علی محمد بلخی نورانی کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور پاکستان۔
  2. حافظ محمد عرفان قادری (1413ھ). تذکرہ مشائخ سیفیہ۔ لاہور: بہار اسلام پبلیکیشنز لاہور۔ pp. 161.