شاہ محمد دلربا ایک آزاد منش صوفی تھا۔ دارا شکوہ نے حسنات العارفین میں اسے اپنا استاد اور مجمع البحرین میں اپنا مرشد بتایا ہے[1] اور ان کے جتنے اقوال دارا شکوہ نے نقل کیے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسخ شدہ تصوف کی ساری منزلیں طے کرکے حلول و اتحاد کے دائرے میں داخل ہو چکا تھا۔ وہ دارا شکوہ سے ملا شاہ بدخشی کے اشعار سنانے کی اکثر فرمائش کیا کرتا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اسی فکر سے متاثر ہو کر اس رنگ میں رنگا گیا تھا۔

اس کی زبان پر دارا شکوہ کے لیے اکثر یہی ہوتا تھا اللہ بیا، اللہ بنشین، ظاہر خلق باطن خالق است و ظاہر خالق باطن خلق۔[2]

حوالہ جاتترميم