شمش آغا 1922 میں پیدا ہوئے۔ وہ مختصر کہانی نویس اور ناول نگار تھے۔ طبعیت بہت زیادہ حساس تھی جس کی وجہ ان کے والدین کی علیحدگی تھی۔ شمش آغا 3 دسمبر 1945 کو غائب ہوئے اور کبھی گھر نہیں لوٹے۔ ایک قریبی دوست اور رشتے وزیر آغا کویقین تھا کہ شمش نے خودکشی کر لی ہے، جس کی وہ پہلے بھی ایک بار کوشش کر چکے تھے۔

ادبی سرگرمیاںترميم

شمش نے غائب ہونے سے پہلے 9 مختصر کہانیاں اور ایک نامکمل ناول لکھا۔ غائب ہونے سے پہلے انہوں نے اپنے نامکمل ناول کا مسودہ مولانا صلاح الدین احمد کے حوالے کر دیا تھا۔[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم