(انگریزی: Antimatter) ذراتی طبیعیات میں موجود ضد ذرہ (antiparticle) کے نظریے کا اگر وسعت دے کر مادے تک پھیلا دیا جائے تو، ضد مادہ کا نظریہ وجود میں آتا ہے اور اگر کوئی ذرہ اور اس کا ضد ذرہ ایک دوسرے کے مقابل آجائیں یا مل جائیں تو فنا (annihilate) ہوجاتے ہیں اور وہ دونوں، کسی اور ذرہ میں تبدیل ہوجائیں گے جس کے ساتھ تبدیلی کی مقدار میں، آئن سٹائن کی مساوات، E = mc2 کے مطابق توانائی کا اخراج ہوگا۔ اینٹی میٹر اور عام میٹر میں بظاہر کوئی فرق نہیں ہوتا اور کائنات اگر میٹر کی بجائے اینٹی میٹر کی بنی ہوتی تو بھی بالکل ایسی ہی دکھتی جیسا کہ اب دکھ رہی ہے۔ اینٹی میٹر اور عام میٹر کے ایٹمز کے ذرات پر چارج ایک دوسرے کے الٹ ہوتا ہے۔ الیکٹران پر منفی چارج اور پروٹان پر مثبت چارج ہوتا ہے لیکن اینٹی میٹر کے پاس الیکٹرون کا متبادل اینٹی الیکٹران (درست نام پوزیٹران) ہوتا ہے جس پر مثبت چارج ہوتا ہے اور پروٹان کا متبادل اینٹی پروٹان ہوتا ہے جس پر منفی چارج ہوتا ہے۔ لہذا جب بھی عام میٹر یا اینٹی میٹر آپس کے رابطے میں آتے ہیں یا ایک دوسرے سے ٹچ ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے مخالف چارج رکھنے کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کو فورا نیست و نابود (annihilate) کر دیتے ہیں اور نتیجے میں (E=mc^2 مساوات کے رو سے) جو انرجی خارج ہوتی ہے اس کی شدت سو فیصد ہوتی ہے۔ سوئزرلینڈ میں واقع سرن (CERN) کے تجرہ گاہ میں تجرباتی مقاصد کےلیے ہر سال بہت ہی معمولی مقدار میں یعنی نینو گرام میں اینٹی میٹر تیار کیا جاتا ہے مگر اس کی تیاری اور حفاظتی اقدامات پر جو مجموعی لاگت آتا ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے جس کی وجہ سے اینٹی میٹر نہایت ہی نایاب اور قیمتی مادہ شمار ہوتا ہے۔

بیرونی روابطترميم