طلاقِ مُغَلَّظہ:طلاق مغلظہ مرد کا اپنی بیوی کو ایک ہی نشست میں تین طلاقیں دے دینا۔[1] تین طلاق بینونت(جدائی) کی قسم اکبر یعنی بینونت کبری ہیں اور اس وجہ سے اسے مغلظہ کہاجاتاہے۔ جس کے بعدمردکودوبارہ نکاح یا رجوع کاحق نہیں رہتا۔ البتہ اگر عورت تین طلاق کے بعد عدت گزارکرکسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اوروہ دوسراشخص حقوق زوجیت کی ادائیگی کے بعد اپنی مرضی سے اسے طلاق دے یا اس مردکاانتقال ہو جائے توعورت عدت کے بعدپہلے شوہرسے نکاح کرسکتی ہے۔[2] یہ سارا عمل حلالہ کہلاتا ہے۔

اہل تشیع کے ہاں اس طرح کی کوئی طلاق نہیں ہے۔ ایک نشست میں صرف ایک طلاق ہوتی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. الموسوعۃ الفقہیۃ،ج29،ص30
  2. [فتاویٰ دار العلوم دیوبند9/123،ادارہ اسلامیات