شاعر۔ادیب افسانہ نگار ناول نگار۔پشتو زبان

1964ء کو کلی حسن زئی ضلع قلعہ سیف اللہ میں حاجی محمد جان کے ہاں پیداہوئے۔آپ نے میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول قلعہ سیف اللہ سے کیا اور عملی زندگی کا آغاز واپڈا میں ملازمت سے کیا، 16 سال تک واپڈا میں خدمات سر انجام دیں 2001ء میں لائن بند کرا کر کام کر رہے تھے کہ انسانی غلطی کے تحت کسی نے وہ میں لائن کھول دی جس سے آپ کو ان کرتے ہوئے کرنے لگا اور آپ شدید زخمی ہو گئے آپ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں جان تو بچ گئی لیکن آپ کے دونوں بازو کندھوں سے نکال دیے گئے کیونکہ وہ مکمل جل گئے تھے اس طرح آپ معذور ہو گئے لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے پیروں سے کام لینے کا فیصلہ کیا آج آپ اپنے پیروں سے کمپیوٹر پر کمپوزنگ کا کام کرتے ہیں کمپیوئٹر خود کھول لیتے ہیں بنا کے واپس بند کر لیتے ہیں آپ پشتو زبان کے شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ کمرشل کمپوزنگ کا کام کرتے ہیں آپ کی ڈیڑھ درجن کے قریب کتابیں شائع ہو چکی ہیں جو سب کی سب آپ نے خود کمپوز کی ہیں واپڈا سے آپ کو جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا کیونکہ آپ فعال نہیں رہے تھے لیکن قدرت نے آپ کے لیے دوسرا میدان چن لیا یہ باہمت انسان ہمارے معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ [1]

حوالہ جات ترمیم

حوالہ جات

  1. حوالہ از ا(دبی چہرے /ڈاکٹر عبد الرشید آزاد ص86 )