عشر زرعی زمین کی پیداوار سے بطور زکوۃ کے دسواں حصہ نکالنا عشر کہلاتا ہے۔

عشر کی تعریفترميم

عشر یا عُشر کا لغوی مطلب ہے دسواں حصہ۔ دینی اصطلاح میں یہ زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ ہے۔ فقہا کرام کی تصریحات کے مطابق جس کھیت کی زراعت میں آبپاشی کے لیے بوجھ اٹھانا پڑے تو اس پیداوار میں سے نصف عشر دینا واجب ہے اور جس کھیت کی زراعت میں مشقت کم ہو وہاں عشر یعنی دسواں حصہ دینا واجب ہے

عشر کی تاریخترميم

بعض روایات کی رو سے عشر یہود پر بھی فرض تھا۔ نبی اسرائیل کے گیارہ قبائل اپنی اپنی پیداوار کا دسواں حصہ احبار یا نبی لاوی کو دیتے تھے جس کے عوض بنی لاوی یہود کی مذہبی خدمات سر انجام دیتے تھے۔

عشر کی فرضیتترميم

ہر اس شخص پر جو زمین کاشت کرتا ہے، عشر دینا واجب ہے۔ عشر چونکہ پیداوار کی زکوٰۃ ہے اس لیے مال کے ساتھ پیداوار کا عشر الگ نکالا جاتا ہے۔ سال کے اندر جتنی بھی فصلیں کاشت ہوں گی، ان سب پر ہی عشر واجب ہے، ربیع پر بھی اور خریف پر بھی یہی معاملہ ہے۔ امام ابو حنیفہ کے مطابق مویشیوں کے چارے پر بھی عشر واجب ہے۔

عشر کا نصابترميم

امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا کوئی الگ الگ نصاب نہیں، پیداوار چاہے جتنی بھی ہو عشر واجب ہے۔ یعنی مال کی طرح جیسے ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کی طرح مخصوص حدِ پیداوار نہیں ہے۔

عشر کے مستحقترميم

عشر کے مستحق بھی وہی لوگ ہے جو زکوٰۃ کے ہیں۔