زمانہ قدیم اور جدید میں مختلف امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے حکماء، طبیب اور ڈاکٹر اپنے اپنے علم و تجربہ کی بنا پر مختلف طور طریقے اپناتے تھے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

علاج کے مختلف طریقےترميم

علاج کے معاملے میں ہر معالج اپنے فن کا ماہر ہونا جس کے لیے اس کا حسب ذیل زمروں سے کم ازکم ایک سے تعلق ہونا چاہیے:

  • ڈاکٹر ہو (موجودہ دور میں وسیع پیمانے پر پھیلا طب یا ایلوپیتھی کا ماہر ہو)۔
  • یونانی حکیم ہو۔
  • آیورویدی طریقہ علاج کا ویدھ ہو۔
  • جرمن طریقہ علاج یا ہومیوپیتھی کا ماہر ہو۔
  • چینی سوئیوں کے ذریعہ علاج یا ایکوپنکچر کا ماہر ہو۔
  • یا پچھنے (کپپینگ تھراپی) لگانے کا ماہر ہو۔

جھاڑ پھونکترميم

اوپر کے علاج کے طریقوں کے علاوہ سماج کا ایک معتد بہ طبقہ جھاڑ پھونک یعنی روحانی علاج کا قائل ہے۔ اس علاج کے تحت مذہبی وظائف واوراد اور تعویذ وغیرہ کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم