غلام دستگیر قصوری

مولانا غلام دستگیر قصوری سلسلہ نقشبندیہ کے اکابر صوفیا میں سے ہیں۔

غلام دستگیر قصوری
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1897  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ خواجہ غلام محی الدین قصوری  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادتترميم

غلام دستگیر ہاشمی قریشی صدیقی ابن حسن بخش صدیقی محلہ چلہ بیبیاں اندرون موچی دروازہ ،لاہور میں پیدا ہوئے

تعلیم و تربیتترميم

مولانا غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری کی خدمت میں حاضر ہو کر علوم و معارف کے دریاد امن مراد میں سمیٹے ۔ مولانا غلام دستگیر کو مولانا غلام محی الدین قصوری کا شاگرد ،خواہر زادہ ، داماد، مرید با صفا اور خلیفہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔1890ء میں حج و زیارت سے مشرف ہوئے تبلیغ اسلام اور مخالفین اسلام کی سر کوبی میں آپ کے خدمات نا قابل فراموش ہیں، بر صغیر پاک و ہند میں کوئی مناظر آپ کا ہمسر نہ تھا۔ مناظرہ بہاولپور وہ یادگار مناظرہ ہے جس میںآپ کو مولوی خلیل احمد انبھیٹوی کے مقابلہ میں زبر دست کامیابی ہوئی۔

مناظرہ بہاولپورترميم

یہ تاریخی مناظرہ ماہ شوال1306ھ میں براہین قاطعہ ( مؤلفہ مولوی خلیل احمد انبھیٹوی) کی گستا خانہ عبارات پر ہوا تھا جس کے حکم نواب محمد صادق عباسی ، والی ، بہاول پور کے پیر مرشد شیخ المشائخ خواجہ غلام فرید چا چڑاں شریف ، تھے۔ حکم مناظرہ نے لکھ دیا کہ دیوبندی علما کے عقائد ان وہابی علما سے ملتے ہیں جو برصغیر میں خلفشار کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ اس فیصلے کے بعد نواب صاحب نے مولوی خلیل احمد کو ریاست سے نکل جانے کا حکم صادر فرمادیا۔ اس مناظرہ کی ردئیداد تقدیس الوکیل کے نام سے چھپ چکی ہے جس کے آخر میں علما حرمین طیبین کی تصدیقات ثبت ہیں ، شیخ الدلائل مولانا عبد الحق مہاجر مکی اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی حضرت مولانا غلام دستگیر۔قصوری کی تائید فرمائی۔ مولانا رحمت علی مہاجر مکی بانی مدرسہ صولتیہ نے بھی تقدیس الوکیل پر شاندار تقریظ میںفرمایا: ’’میں جناب مولوی رشید احمد کو رشید سمجھتا تھا ،مگر میرے گمان کے خلاف کچھ اور ہی نکلے۔‘‘ [1] سلسلۂ نقشبندیہ میں ہزارہا افراد آپ کے دست اقدس پربیعت ہوئے ، آپ نے تمام عمر تبلیغ و تلقین میں صرف فرمائی ،

تصنیفاتترميم

فرق باطلہ اور مذاہب فاسدہ کی تردید میں متعدد محققانہ کتابیں لکھیں اور شائع کر کے مفت تقسیم کیں۔ چند تصانیف کے نام یہ ہیں:

  • 1۔ مخرج عقائد نوری بجواب نعمۂ طنبوری ، رد عیسائیت میں ۔
  • 2۔ رجم الشاطین برا غلوطات البراہین۔
  • 3۔ تحقیقات دستگیر یہ فی رد ہفوات براہینیہ۔
  • 4۔ فتح الرحمانی بہ دفع کید قادیانی ، مرزائیت کے رد میں۔
  • 5۔ جواہر مضیہ ، نیچر یہ کے رد میں۔
  • 6۔ ہدیۃ الشیعتین ، روافض اور خوارج کے رد میں۔
  • 8۔ عمدۃ البیان فی اعلان مناقب النعمان۔
  • 9۔ تحفۂ دستگیر یہ بجواب اثنا عشریہ۔
  • 10۔ عروۃ المقلدین۔
  • 11۔ ظفر المقلدین۔
  • 12۔ نصرۃ الا برار۔
  • 13۔ ابحاث فرید کوٹ۔
  • 14۔ تحقیق صلوٰۃ الجمعہ

وصالترميم

1315ھ/1897ء میں آپ کا وصال ہوا اور قصور کے مشہور قبرستان میں آپ کی آخری آرام گاہ بنی[2]

  1. تقدیس الوکیل صفحہ415 مطبوعہ نوری بکڈپو لاہور
  2. تذکرہ اکابر اہل سنت: محمد عبد‌الحکیم شرف قادری:صفحہ308 نوری کتب خانہ لاہور