غناسطیت کا دوسرا نام عرفانیت ہے۔ غناسطیت یونانی لفظ gnosis کا معرب ہے۔ اس علم کی طرف عہد نامہ جدید میں ہے اور اکثر تحریروں میں اس کی تعلیم سے با خبر کیا گیا ہے۔[1][2][3] یہ علم کب اور کیسے شروع ہوا اور اس کی نوعیت کیا ہے، ان سب باتوں کا صحیح پتہ لگایا نہیں جا سکا۔ اس لیے بہت مشکل ہے کہ معلوم کیا جائے کہ اس کا کس فلسفے سے تعلق ہے۔ زمانہ حاضرہ کے علما کا خیال ہے کہ اس کا تعلق اُس تحریک سے ہے جسے بعد میں غناسطیت یا عرفانیت کا نام دیا گیا۔ یہ ایک منظم اور مکمل فلسفہ نہ تھا۔ اس میں مختلف مکاتبِ فکر کو ایک نام کے تحت رکھ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان سب میں مشترک باتیں یہ تھیں۔ اِن سب کا عقیدہ تھا کہ نجات ایک خاص خفیہ علم کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے تمام فرقوں کا خیال تھا کہ عرفان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیکی اور بدی کا وجود صرف ثنویت سے سمجھا جا سکتا ہے یعنی کائنات میں دو خدا ہیں، ایک نیکی کا اور دوسرا بدی کا۔ ان دونوں کے درمیان صدور کا ایک سلسلہ تھا جو نیکی سے بدی کی طرف بتدریج جاتا تھا۔ مادہ بدی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ چونکہ خدا نیکی کا مظہر تھا اس لیے نجات حاصل کرنے کے لیے اور خدا کی قربت میں پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ انسان درجہ بدرجہ اس خفیہ عرفان کے ذریعہ خدا کے پاس جائے۔[4]

حوالہ جات

ترمیم
  1. 1 کرنتھیوں باب 1 آیت 17 ببعد / باب 2 آیت 6 ببعد / باب 8 آیت 1، 7، 10 / باب 13 آیت 8
  2. 1 تیمتھیس باب 6 آیت 20
  3. مکاشفہ باب 2 آیت 24
  4. قاموس الکتاب، صفحہ 642