فتح المعین بشرح قرۃ العین بمہمات الدین امام احمد زین الدین بن عبد العزیز معبری ملیباری فنانی شافعی (وفات: 987ھ / 1579ء) کی فقہی کتاب ہے۔ یہ کتاب قرۃ العین بمہمات الدین کی شرح ہے اور کتب شافعیہ کی اہم اور مشہور شروحات میں شمار ہوتی ہے۔ ہند کے علاقے ملیبار کے جامعات میں یہ شرح پڑھائی جاتی ہے نیز مصر، شام، حجاز، یمن، اندونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور میں فقہ شافعی کے طلبا میں متداول ہے۔ [1]

فتح المعین
مصنفاحمد زین الدین ملیباری
موضوعفقہ شافعی

مؤلف کتاب کے مقدمے میں کہتے ہیں:

یہ میری کتاب ”قرۃ العین بمہمات الدین“ کی مفید شرح ہے جو مراد کو واضح کرتی اور فائدے کی تکمیل کرتی ہے؛ اس سے مقاصد حاصل ہوتے اور فوائد روشن ہوتے ہیں اور میں نے اس کا نام رکھا: ”فتح المعین بشرح قرۃ العین بمہمات الدین“، اور میں اللہ کریم سے سوال کرتا ہے کہ اس کا نفع عوام و خواص سب بھائیوں کو عام ہو اور اس کے سبب مجھے دار الامان میں فردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ بےشک وہ سب سے زیادہ کرم فرمانے والا اور سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ [2]

کتاب کے حواشیترميم

کتاب فتح المعین کی اہمیت اور مقبولیت کے پیش نظر متعدد علما نے اس پر حواشی اور شروحات لکھی، چند یہ ہیں:

  • حاشیہ علی بن احمد بن سعید باصبرین (وفات 11304 ہجری / 1887 عیسوی)۔
  • سید البکری بن سید محمد شطا دمیاطی (متوفی 1310 ھ / 1893 ء) کا حاشیہ ”اعانۃ الطالبی علٰ حل الفاظ فتح المعین“۔
  • سید علوی بن احمد بن عبد الرحمن سقاف (متوفی 1335 ھ / 1916 AD) کا حاشیہ ”ترشیح المستفیدین بتوشیح فتح المعین"۔
  • سیدی نووی الجاوی نے فتح المعین کے متن ”قرۃ العین بمہمات الدین“ پر علیحدہ سے شرح ”نہایۃ الزین فی ارشاد المبتدئین بشرح قرۃ العین بمہمات الدین“ نام سے لکھی۔

حوالہ جاتترميم

  1. مقدمہ کتاب فتح المعین، ص8
  2. فتح المعین، ملیباری، ص31 آرکائیو شدہ 26 دسمبر 2020 بذریعہ وے بیک مشین