فتوح الغیب شیخ عبد القادر جیلانی کی تصنیف ہے۔
یہ علم تصوف و معرفت پر معرکۃ الاراء کتاب ہے اس کے مضامین مضامین قرآنی اور اسرار طریقت سے معمور ہیں، یہ کتاب کئی مقالات پر مشتمل ہے، ہر مقالہ معرفت و حقیقت کا آئینہ دار ہے، اس کتاب میں غوث اعظم کے اٹھتر 78 وعظ ہیں جو انہوں نے مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے ان مقالات کا مطالعہ ایمان میں حرارت پیدا کرتا ہے اور صحیح اعمال و عقائد کی عکاسی کرتا ہے یہ کتاب اصل میں انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد عیسیٰ کی تعلیم کے لیے تصنیف فرمائی اس کتاب میں فنا و بقا اور نفس و دل کے امراض اور ان کا علاج تجویز کیا گیا ہے۔
اس کتاب کے کئی ترجمے ہوئے شاہ عبد الحق قادری محدث دہلوی نے ترجمہ کیا جو بہت شہرت رکھتا ہے ابو الحسن سیالکوٹی، نواب صدیق حسن بھوپالی اور محمد عالم کاکوروی نے بھی تراجم کیے ہیں۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. تذکرہ مشائخ قادریہ ،محمد دین کلیم، صفحہ115 مکتبہ نبویہ لاہور