مرکزی مینیو کھولیں

قُسّ بن ساعدہ اِیادی (الف کے نیچے زیر) عہد جاہلیت کا ممتاز عرب خطیب جس کا شمار حکماء عرب میں ہوتا تھا۔ 600ء بمطابق 23 ق ھ میں وفات پائی۔

حالات زندگیترميم

 
قس بن ساعدہ کی عکاظ میں کی گئی تقریر کا ایک ٹکڑا، جسے اسد فاطمی نے خط کوفی و حجازی سے متاثر خط میں خشک حیوانی جلد پر کندہ کیا۔

یہ نجران کا بڑا پادری، عرب خطیب، مشہور حکیم اور پنچ تھا۔ یہ خدا پر یقین رکھتا تھا۔ یہ پرحکمت پند و نصیحت کے ذریعے خدا کی طرف دعوت دیتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلا خطیب ہے جس نے سب سے اونچی جگہ کھڑے ہو کر تقریر کی۔ تلوار کا سہارا لینا اور خطبے میں امابعد کہنے کی ابتدا اسی نے کی ہے۔ بنی اکرام نے جب عکاد میں اس کی تقریر سنی تو اس کی بہت تعریف کی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ اسے یہ دعا دی ’’خدا قیس پر رحم فرمائے، مجھے امید ہے وہ قیامت کے دن تنہا ہی ایک قوم کی جگہ اٹھایا جائے گا‘‘۔

وہ وقتاً وقتاً قیصر کے دربار میں جاتا تھا، قیصر اس کا بہت احترام کرتا تھا لیکن اس نے دنیا سے کنارہ کشی کرکے سادہ زندگی اختیار کرلی تھی۔ وہ اللہ کی عبادت کرتا اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا۔ حتیٰ کہ طویل عمر گزار کر 600ء میں فوت ہوا ۔

اسلوب خطابتترميم

اس سے منسوب نثر منسوب ہے اس کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ طرز بیان اس کی طبعیت کی روانی کا تنتیجہ تھا، اس کی عبارت نہایت پرکشش اور پسندیدہ الفاظ پر مشتمل ہوتی تھی، جس میں چھوٹے مسجع جملے، ضرب الامثال اور منتخب عبارت ہوتی تھی۔ اس میں سرکشوں کی تباہی اور دنیا کے ظاہری تغیرات سے درس عبرت دیا جاتا تھا۔ وہ شعر بھی کہتا تھا اور اس کی شاعری حسن الفاظ اور عمدہ معافی کے ساتھ ساتھ قوت تاثیر بھی رکھتی تھی جیسا کہ اس کے کلام سے ظاہر ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. احمد حسن زیات۔ تاریخ ادب عربی۔ ترجمہ، محمد نعیم صدیقی۔ شیخ محمد بشیر اینڈ سنز سرکلر روڈ چوک اردو بازار لاہور