قلہ اہل حجاز قلہ مٹکے کو کہتے ہیں ایک بڑا برتن جس کی جمع قلال ہے

فقہا کے ہاں استعمالترميم

حنفیہ شافعیہ اور حنابلہ کے ہاں حجم کی معین مقدار کامعیار ہے بڑا مٹکا جس میں250 رطل بغدای سما جائیں یہ اڑھائی مشکوں کے برابر ہے
قلہ حجاز میں معروف ہے اس سے مراد وہ برتن ہے جس میں پانی لایا جائے اس کو قلہ اس لیے کہتے ہیں کہ ہاتھ اسے اٹھاتے ہیں جبکہ بعض نے قلہ اس بوجھ کو کہتے ہیں جسے اونٹ اٹھائے چالیس ڈول [1]

شرعی استعمالترميم

شرعی احکام میں عام طور پر ٹھہرے ہوئے کثیر پانی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں نجاست پڑنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا وہ دو قلے ہے[2]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میدانوں اور جنگلوں کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا جس پر درندے اور چوپائے بار بار آتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب پانی دو قلوں کی مقدار میں ہو تو ناپاک نہیں ہوتا محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ قلہ مٹکے کو کہتے ہیں اور قلہ وہ بھی ہے جس میں پانی بھرا جاتا ہے امام ابوعیسٰی کہتے ہیں جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو وہ اس وقت تک ناپاک نہیں ہو جب تک اس کی بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو اور انہوں نے کہا کہ قلتین پانچ مشکوں کے برابر ہوتا ہے۔[3]

اعشاری نظامترميم

  • ایک قلہ= اڑھائی مشکیں
  • ایک قلہ =252 رطل
  • برطانوی وزن =2 من 25 سیر7 چھٹانک 2 تولے 6 ماشے
  • اعشاری نظام =98٫415 کلو گرام۔[4]

حوالہ جاتترميم

  1. مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح ملا علی قاری جلد دوم صفحہ276
  2. موسوعہ فقہیہ ،جلد38 صفحہ 324، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
  3. جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 65
  4. اسلامی اوزان صفحہ 65،فاروق اصغر صارم،ادارہ احیاء التحقیق الاسلامی گوجرانوالہ