منطق میں قیاس کسی جزو سے کسی کل کے نتیجہ پر پہنچنے کو کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر کسی جزو کے دو مقدمات درست ہوں تو اس سے نکلنے والا نتیجہ حتمی طور پر درست ہوگا، اسی استنتاج یا استدلال کو منطق کی اصطلاح میں قیاس کہا جاتا ہے۔

قیاس کی ابتدائی شکل جسے ارسطو نے بیان کیا ہے، یہ تھی کہ حد کبری اور حد صغری کو ملا کر نتیجہ نکالا جاتا تھا۔ مثلاً تمام انسان فانی ہیں (حد کبری) اور سقراط انسان ہیں (حد صغری)، چنانچہ ان دونوں قضیوں کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلا کہ سقراط فانی ہیں۔ اسے قیاس استخراجی بھی کہا جاتا ہے۔

شکلیںترميم

اس کی کل چار شکلیں ہیں۔

  • پہلی شکل
  • دوسری شکل
  • تیسری شکل
  • چوتھی شکل

مزید دیکھیےترميم