مدونۃ الکبریٰ فقہ مالکی کی مشہور کتاب ہے۔ اس میں ان سوالوں کے جوابات جمع کیے گئے ہیں جو امام مالک بن انس سے پوچھے گئے تھے۔ پھر انھیں ان کے شاگردوں نے مرتب کر کے کتابی شکل دے دی۔ سحنون نے اس کتاب کو مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بعض مقامات پر ان آثار سے بھی احتجاج کیا جو ابن وہب کی روایت موطا سے تھے۔ مگر یہ سب کچھ عبد الرحمن بن قاسم العتقی سے تصدیق کے بعد کیا۔ اس کتاب میں تقریباً چھتیس ہزار مسائل ہیں اور مالکیوں کے ہاں اسے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔[1] سوال پیدا ہوتا ہے"المدونتہ الکبریٰ اصل میں کس کی تصنیف و تالیف ہے"

مدونۃ الکبری
معلومات شخصیت

درحقیقت یہ کتاب امام مالک ؒ نے خود نہیں مرتب کی ۔ بلکہ ان کی روایات ان کے مشہور شاگرد ابن قاسمؒ کے واسطہ سے اور کچھ دوسرے شاگرد ابن وہبؒ وغیرہ کے واسطہ سے مشہور مالکی فقیہ "امام سحنون م240ھ" نے جمع و ترتیب دی ہے۔ان کو "صاحب المدونہ" بھی کہا جاتا ہے۔

اس کتاب کے متعلق زرکلی کا بیان ہے۔ "ھومن اجل الکتب المالکیۃ" یہ مذہب مالکی کی عظیم ترین کتابوں میں ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ خود ابن القاسم نے امام مالک کے زمانہ میں مدینہ سے واپس آکر اپنے شیخ کے مجتہدات وفقیہات کو ایک کتاب کی صورت میں مدون کرنا شروع کیا تھا، یحییٰ مصمودی مدونہ کا سماع حاصل کرنے ابن القاسم کی خدمت میں مصر سے حاضر ہوئے تھے،لیکن اس وقت وہ بستر علالت پر تھے،یہ کتاب مصر کے مطبع بولاق سے طبع ہوکر ہر جگہ دستیاب ہے۔۔

حوالہ جات ترمیم

  1. محمد ادریس زبیر، فقہ اسلامی ایک تعارف ایک تجزیہ، ص 151 – 152