رومی بادشاہ ہیڈریان (دور حکومت 117-138 عیسوی) کے ہاتھوں یروشلم کی تباہی کے بعد سے یہودی علما نے مختلف اجتہادات کیے۔ یہودیوں نے شریعت موسوی کے متعلق ہونے والے ان اجتہادات کو ایک جگہ جمع کر کے ایک فقہی مجموعہ مشناہ مرتب کیا۔ یہودیوں کا خیال یہ تھا کہ موسٰی نے توریت تحریری اور زبانی طور پر بنی اسرائیل کو دی۔ ان زبانی ارشادات کو تحریر کر کے مشنا کی شکل دے دی گئی۔ یہ مشناہ موسٰی اور بعد کے انبیا کی احادیث اور یہودی علما کے اجتہادات کا مجموعہ ہے۔

مشناہ کے اردو ترجمے کی پہلی جلد

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم