معرکہ تکولم (انگریزی: Battle of Takkolam) (948ء تا 949ء) چول سلطنت کے بادشاہ پرانتک اول کے بڑے بیٹے راجادتیہ اور راشٹرکوٹ بادشاہ کرشنا سوم کے زیر قیادت افواج کے درمیان جنوبی ہند کے مقام تکولم پر پیش آیا۔ اس معرکہ میں راجادتیہ مارے گئے اور چول افواج کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ راجادتیہ نے تکولم پر اس لیے پڑاؤ ڈالا تھا کہ وہاں سے نوخیز چول سلطنت کی شمالی سرحدوں کا تحفظ ہو سکے۔ اس معرکہ کو جنوبی ہند پر قبضہ کے لیے دو شاہی طاقتوں چول اور راشٹرکوٹ کے مابین ہونے والی جنگوں کا نقطہ کمال سمجھا جاتا ہے۔

شہزادہ راجادتیہ کی موت چول افراد کے یہاں ایک یادگار واقعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ چول نقطہ نظر سے اس معرکہ کے واقعات و حوادث کی تفصیلات راجندر چول کے عہد کی تختیوں پر ملتے ہیں۔ راشٹرکوٹ افواج میں جاگیرداروں کے محافظین، ان کے نجی سپاہی اور مغربی گنگ خاندان وغیرہ بادشاہوں کی فوجی ٹکڑیاں شامل تھیں۔ جبکہ شہزادہ راجادتیہ کو امرائے کیرالا کی نجی افواج کی حمایت حاصل تھی۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ پرانتک اول کو راشٹرکوٹ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ اس گھمسان جنگ کا اندازہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ 930ء کی دہائی میں یا غالباً 923ء کے آس پاس شہزادہ راجادتیہ کو سپاہیوں کی ایک ٹکڑی، ہاتھیوں، گھوڑوں اور گھر کے سارے ساز و سامان کے ساتھ اس خطے کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم