ملک عنبر

انھے شریف تحصیل و ضلع منڈی بھاٶالدین پنجاب پاکستان آبادی دوہزار افراد تقریبا مشہور درسگاہ

ملک عنبر ایک حبشی غلام تھا جو اپنی خوش لیاقتی سے ترقی کرکے امارت کے درجے پر پہنچا اور مدت تک امارت کے نام سے بادشاہت کا لطف اٹھایا۔  اس نے اپنے عہد میں نظام شاہی سلطنت کو ایسے عروج پر پہنچایا کہ جو اسے کسی زمانے میں حاصل نہ ہوا تھا۔ اس کے زمانے میں سلطنت ایران کی سلطنت سے قوت و شوکت میں بہت زیادہ تھی اور دکن کی کوئی سلطنت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ بلکہ ایک طرح سے قطب شاہی اور عادل شاہی سلطنت اس کی باجگزار تھیں۔ جس طرح شمالی ہند میں اکبر کے وقت میں زمین کی پیمائش ہو کر از سر نو بندوبست ہوا، اسی طرح دکن میں اس نے ستاجری[1] کا طریقہ بند کرکے  کل ملک کی پیمائش کرائی اور مالگزاری کا جدید طریقہ قائم کیا اور ایسا عمدہ انتظام کیا کہ آج تک دکن کے کسانوں کی زبان پر اس کا نام جاری ہے۔ کہرکی کو اس نے آباد کر کے اپنا دارالسلطنت مقرر کیا تھا۔ 1035ہجری میں 80 سال کی عمر میں انتقال کیا۔

حوالہ جاتترميم

  1.   عہد مغلیہ میں ہندو امرا ، محمد سعید احمد مارہروی، ص 70