منشی پیارے لال شاکر کا شمار اردو کے مسیحی شعرا ، ادیبوں اور صحافیوں میں ہوتا تھا۔ شاکر ہندوستان کا پہلا مسیحی شاعر و ادیب تھا جس کو اردو ادب نے سر آنکھوں پر جگہ دی۔

تعارفترميم

شاکر میرٹھی کا اصل نام منشی پیارے لال تھا۔ وہ اپنا تخلص شاکر استعمال کرتا تھا اور وطن میرٹھ تھا اس وجہ سے بھی شاکر میرٹھی مشہور ہوئے۔ اس کی پیدائش 13 مارچ 1890ء میں کنکر کھیڑہ میرٹھ میں ہوئی تھی۔

تعلیمترميم

منشی پیارے لال شاکر نے ابتدائی تعلیم مشن اسکول میرٹھ سے حاصل کی۔ اردو، فارسی، سنسکرت اور انگریزی زبان پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔

شاعریترميم

انیسویں صدی کا زمانہ شعر و شاعری کا تھا اس لیے منشی پیارے لال کو اوائل عمر ہی سے شوق سخن پیدا ہو گیا تھا۔ پہلے پہل میرٹھ میں شوکت میرٹھی کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ شوکت میرٹھی کی صحبت میں شاعری کی پرانی روش اختیار کی۔ میرٹھ سے جب لکھنؤ تشریف لے گئے تو ادھر احمد علی شوق قدائی لکھنوی کے شاگردوں میں شامل ہو گئے۔ ان کی صحبت اختیار کرنے کے بعد پرانی روش کو ترک کر کے قدرتی مناظر اور روزمرہ کی چیزوں پر نظمیں لکھنا شروع کر دی۔ منشی پیارے لال نے بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں جو درسی کتابوں میں شامل ہوئیں۔

نمونۂ کلامترميم

توصیف مسیحا

طیب معنوی صوری مسیحا دوائے درد مہجوری مسیحا
منور کر میرے تاریک دل کو دکھادے جلوہ نوری مسیحا
تو مہر صدق ہے میں بھی ہوں ذرہ نہیں ہے تاب مستوری مسحا
مجھے نو زادگی تو نے عطا کی مری حاجت ہوئی پوری مسیحا
تمنا ہے کروں میں خدمت تیری عطا ہو اس کی منظوری مسیحا
کرم کر اب بڑھی جاتی ہے حد سے تیرے شاکر کی معذوری مسیحا

ادب و صحافتترميم

شاکر میرٹھی کا شمار اردو کے ممتاز صحافیوں اور ادیبوں میں ہوتا تھا۔ اس نے ممتاز اور مقتدر رسالوں کی ادارت کی۔ منشی پیارے لال جن رسائل سے منسلک رہے ان کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. سرحد
  2. العصر
  3. زمانہ کانپور
  4. ریاست پتج
  5. ادیب
  6. استقلال
  7. بچوں کی دنیا

منشی پیارے لعل الہ آباد میں انڈین پریس سے منسلک رہے۔ ادھر بہت سی کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ اس کی تصانیف اور تراجم کی تعداد کثیر ہے۔ ان میں چند کے نام یہ ہے۔

  1. برکات سلطانی
  2. وفا کا پتلا
  3. حدیقہ اخلاق
  4. تاج شہادت
  5. باشتوں کی سرزمین
  6. چاند کی بیٹی
  7. کتھا سرت ساگر
  8. رابندر ناتھ ٹیگور
  9. حالات سرسید
  10. ایجادات و انکاشافات
  11. اکسیر سخن
  12. مفید ایجادات کی کہانیاں
  13. دیوزادوں کا ملک

وظائفترميم

منشی پیارے لال شاکر کو بہت سی ریاستوں اور سرکار ہند کی طرف سے وظائف ملتے تھے۔ ان ریاستوں میں بھوپال اور حیدرآباد قابل ذکر ہیں۔ مہاراجا کرشن پرشاد بھی شاکر صاحب کی معاونت کرتا تھا۔ حکومت ہند کی جانب سے ملنے والا وظیفہ ڈیڑھ سو ماہوار تھا۔

وفاتترميم

منشی پیارے لال شاکر نے اپنے زندگی کے آخری ایام دہلی میں گزارے۔ اپنی وفات سے پہلے کہا تھا

دوستو عشق مسیحا میں تمہیں کرکے سلام حشر تک سوتا ہوں بس اب نہ جگانا مجھ کو

اس نے 20 فروری 1956ء میں وفات پائی۔ اس کی تدفین دہلی کے پہاڑ گنج قبرستان میں کی گئی۔ [1][2]

حوالہ جاتترميم

  1. https://www.rekhta.org/ebooks/urdu-ke-maseehi-shoara-ebooks?lang=ur
  2. اردو کے مسیحی شعرا مولف ڈی اے ہیریسن قربان صفحہ 191 تا 194