مولانا باقر مدراسی

مولانا باقر مدراسی (پیدائش: 1745ء – وفات: 7 مارچ 1806ء) تیرہویں صدی ہجری کے مدراس کے نامور ممتاز ترین علماء میں سے ہیں۔ آپ اپنے عہد کے شیخ، فاضل اور علامہ تھے۔

مولانا باقر مدراسی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1743  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویلور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 مارچ 1806 (62–63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویلور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم،  محدث،  فقیہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

پیدائش اور تعلیمترميم

مولانا باقر کے والد کا نام مرتضیٰ مدراسی تھا جو کہ ویلور شہر میں آباد تھے۔ خاندان نوائط سے تعلق رکھتے تھے۔ مولانا باقر کی پیدائش 1158 ھ مطابق 1745ء کو ویلور میں ہوئی جو کہ مدراس کا ضلع ہے۔ مولانا باقر ذہین و فطین اور سریع الادراک تھے۔ ابتدائی کتابیں اپنے چچا سید ابوالحسن ویلوری سے پڑھیں ۔ پھر ترچناپلی کے لیے رختِ سفر باندھا۔ وہاں ایک عالم دین شیخ ولی اللہ کے حلقہ درس میں شامل ہوگئے اور اُن سے کسبِ فیض کیا۔ اِس کے بعد اخذِ علم کا باقاعدہ سلسلہ ترک کردیا اور مطالعہ کتب میں مشغول ہوگئے۔[1]

بحیثیت علمی شخصیتترميم

مولانا باقر مدراسی تیرہویں صدی ہجری کے جلیل القدر ہندی عالم اور فقیہ تھے۔ تفسیر، حدیث، علم الکلام، فقہ، اُصولِ فقہ اور دِیگر علوم میں ماہرانہ اور مجتہدانہ نظر رکھتے تھے۔ بیس سال سے بھی کم عمر میں فتویٰ نویسی اور تدریس کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔عالمِ جوانی میں ہی وہ اُن تمام صلاحیتوں سے بہرہ ور ہوچکے تھے جو ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے عالمِ دین میں پائی جاتی ہیں۔ کثیر المطالعہ اور اِنتہائی زِیرک تھے۔ قوتِ ادراک اور فہم و فراست میں اُس دورکا کوئی شخص مولانا کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔بے جھجھک ہوکر بات کرنا اور مناظروں اور مباحثوں میں حصہ لینا اُن کا شیوہ تھا۔ دلائل کے اعتبار سے اُن کی گرفت اِتنی مضبوط ہوتی اور اِس طرح اعتماد کے ساتھ بات کرتے کہ بڑے بڑے عالم اُن کا سامنا نہ کرپاتے۔ اُن کے طریقِ استدلال‘ نہجِ کلام اور کثرتِ مطالعہ سے لوگ متحیر اور متعجب ہوجاتے تھے۔بیس سال کے ہوئے تو اُن کی شہرت قابلیت حکمرانوں کے اِیوانوں تک جاپہنچی۔ مدراس کے امیر نواب محمد علی خاں نے اُن کو اپنے دربار میں تحریر و انشاء پر مامور کیا۔ دو سو روپئے ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا۔ عرصے تک یہ ذمہ داری مولانا کے سپرد رہی۔ بعد ازاں نوابِ مذکور نے آپ کو اپنے بچوں کا معَلَّم اور اتالیق مقرر کردیا۔ اِس دور میں آپ کے جوہر نکھرے اور گُوناگُوں صلاحیتوں کے راز افشاں ہوئے۔ چند ہی روز کے بعد امیر مدراس کے اُنہیں جاگیریں عطاء کیں جن کی چار ہزار دو سو روپئے سالانہ آمدن تھی۔ اِس کے ساتھ ہی اُن کو اپنے خاص ندیموں اور مشیروں میں شریک کرلیا گیا۔[2]

بحیثیت مصنفترميم

مولانا باقر برصغیرکے پہلے عالم ہیں جنہوں نے نواحیٔ مدراس میں علومِ دینیہ کو عربی سے اُردو میں منتقل کیا۔ اُن سے قبل اِس نواح میں کسی نے یہ اہم کام نہیں کیا تھا۔ آپ کو علمِ کلام، عقائد، لغت اور صَرف و نَحو میں یدِطولیٰ حاصل تھا۔ علم فقہ اور اُصولِ فقہ مستحضر تھے۔ معرفتِ تفسیر و حدیث میں یگانہ تھے۔ باقی علومِ مُرَّوجہ سے کامل آگاہی تھی۔ آپ نے عربی، فارسی اور اُردو، تینوں زبانوں میں کتابیں لکھیں اور تقریباً ہر موضوع پر قلم اُٹھایا ہے۔اِن تینوں زبانوں میں متعدد کتب آپ کی یادگار ہیں۔ نظم و نثر میں خوب کام کیا ہے۔[3]

وفاتترميم

مولانا باقر مدراسی کی وفات 16 ذوالحجہ 1220ھ مطابق 7 مارچ 1806ء کو 62 سال کی عمر میں ہوئی۔[4]

کتابیاتترميم

  • محمد اسحاق بھٹی: فقہائے ہند، جلد 6، مطبوعہ دارالنَوادر، لاہور، 2013ء

حوالہ جاتترميم

مزید دیکھیںترميم

  1. فقہائے ہند، جلد 6، صفحہ98۔
  2. فقہائے ہند، جلد 6، صفحہ98۔
  3. فقہائے ہند، جلد 6، صفحہ99۔
  4. فقہائے ہند، جلد 6، صفحہ101۔