چراغ علی مولوی، اعظم یار جنگ (1895 – 1844) مولوی چراغ علی کے آبا و اجداد کشمیر کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد مولوی محمد بخش نے میرٹھ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ یہیں چراغ علی پیدا ہوئے۔ دس سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ معمولی تعلیم کے بعد سلسلہ معاش میں ضلع بستی چلے گئے۔ وہاں محکمہ خزانہ میں بیس روپیہ ماہوار پر ملازم ہو گئے۔ قانون کا امتحان دے کر جوڈیشیری کمشنر اودھ کے ڈپٹی منصرم اور پھر سیتاپور کے تحصیلدار ہو گئے۔ علمی شوق ان کی فطرت میں تھا۔ کئی زبانوں انگریزی، لاطینی اور یونانی سے واقف تھے۔ علمی ترقی کے ساتھ ملازمت میں بھی ممتاز عہدوں تک پہنچے۔ 1877 میں سرسید کی کوشش سے حیدرآباد آئے جہاں محسن الملک کے ماتحت چار سو روپیہ ماہوار پر مددگار معتمد مال ہوئے۔ یہاں کچھ ایسی خوش اسلوبی دکھائی کہ جلد ہی معتمدی مال پر ترقی مل گئی۔ یہیں انتقال ہوا۔ کتب بینی کا انھیں ایسا شوق تھا کہ مطالعہ کے لیے غیر ممالک سے گتابیں منگواتے تھے۔ تصانیف کی تعداد خاصی ہے۔ بہت سی کتابیں حیدرآباد کے سرکاری امور پر لکھیں۔ مذہبی کتابیں بھی کئی ہیں جن میں تحقیق الجہاد، رسول برحق، اصلاحات سلاطین اسلام، اسلام کی دینوی برکتیں، قدیم قوموں کی مختصر تاریخ قابل ذکر ہیں۔ خطوط "مجموعہ رسائل" کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ اخلاقی مسائل پر چند اردو اور انگریزی پمفلٹ بھی ہیں۔ تہذیب الاخلاق کے مستقل اور معروف قلمی معاون تھے۔ ان کی نظر زیادہ تر نفسِ مضمون پر رہتی ہے۔ عبارت آرائی اور رنگینی مفقود ہے۔ چراغ علی کو مذہبی مسائل سے بھی کافی دلچسپی تھی۔ فن مناظرہ میں دستگاہ رکھتے تھے۔

چراغ علی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1844ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1895ء (50–51 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب Project Gutenberg author ID: https://gutenberg.org/ebooks/author/9611 — بنام: Cherágh Ali — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017