مھر دونیم افتخار عارف کا پہلہ شعری مجموعہ ہے، جو پہلی بار 1984ء میں اشاعت پزیر ہوا۔ اب تک اس کے پندرہ باضابطہ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ یہ مجموعہ لندن اور دلی سے بھی چھپ چکا ہے۔ اس مجموعے میں 64 غزلیں اور 46 نظمیں ہیں۔ انتساب 'بابال کے نام ہے۔ پیش لفظ کے عنوان سے فیض احمد فیض کا ابتدائیہ اور ڈآکٹر گوپی چند نارنگ کا مضمون بعنوان 'نئی تنہائیوں کا دردمند شاعر' بھی کتاب میں شامل ہے۔ سرورق حنیف رامے کے موقلم کا اعجاز ہے۔

مکالمہ

ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
جو خلعت انتساب پہنا کے وقت کی رو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
حجاب کو رمز نور کہتا ہے اور پر تو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہوگا
کوئی نہیں ہے
کہیں نہیں ہے
یہ خوش یقینوں کے خوش گمانوں کے واہمے ہیں جو ہر سوالی سے بیعت اعتبار لیتے ہیں
اس کو اندر سے مار دیتے ہیں
توکون ہے وہ جو لوح آب رواں پہ سورج کو ثبت کرتا ہے اور بادل اچھالتا ہے
جو بادلوں کو سمندروں پر کشید کرتا ہے اوربطن صدف میں خورشید ڈھالتا ہے
وہ سنگ میں آگ، آگ میں رنگ، رنگ میں روشنی کے امکان رکھنے والا
وہ خاک میں صوت، صوت میں حرف، حرف میں زندگی کے سامان رکھنے والا
نہیں کوئی ہے
کہیں کوئی ہے
کوئی تو ہوگا