نارو راحپوتوں کی گوت ہے اس کے علاوہ راجپوت خاندان کو لوگ زمانہ قدیم سے سے ہی اپنے ان سسرالی رشتہ داروں کو بھی یہ خطاب دیتے تھے جو راجپوت ناں تھے۔ نارو راجپوت خاندان کی ابتدا کشمیر کے مہاراجا رائے رام چند سے ہوتی ہے۔ جسے اس کے ایک وزیر راجا رینچن نے حکومت سے معزول کرکے خود حکومت پر قبضہ کر لیا تھا کیونکہ وہ خود شیعہ (مسلمانوں کی ابتدائی خارجی شاخ) مذہب اختیار کرچکا تھا۔ رائے رام چند کی پانچویں نسل سے ایک رائے دھنی بخش (دھونی) کے بیٹے رائے بلکا نے سنی اسلام قبول کیا جس کا نام بدل کر رائے غیاث الدین خاں رکھا گیا۔ اس سلسلے کا اآخری ٹکا(راجپوت قبیلے میں سردار) رائے صوفی فضل محمد خاں تھا جو پاکستان بننے کے بعد 1950عیسوی میں فوت ہوا اس کی صرف ایک بیٹی تھی جس کی شادی اسی خاندان کے ایک فرد سے ہوئی۔ اس خاندان کے پاس اب بھی اپنا خاندانی شجرہ محفوظ ہے