ناموس اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بادشاہ کا راز دار اور معتمد علیہ ہو۔

رسالت کے ساتھ ناموسترميم

نبی اور رسول چونکہ اللہ کے رازوں سے واقف ہوتے ہیں،ان کو اس راز کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہوتا ہے اس لیے ان کی عزت کی حفاظت کو بھی ناموس کہا جاتا ہے۔

اہل کتاب کے ہاں مفہومترميم

عزت کی مناسبت سے اہل کتاب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو " ناموس " کہا کرتے تھے، بعض حضرات نے کہا کہ " ناموس خیریت (اچھی باتوں) کے راز دار کو کہتے ہیں اور " جاسوس " شر (بری باتوں) کے راز دار کو کہا جاتا ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح،ملا علی قاری ،جلد دہم،صفحہ807 مکتبہ رحمانیہ لاہور