ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت میں وہ اساطیری مقام جہاں عذاب دیا جاتا ہے، کو نرک کہتے ہے۔ لیکن کچھ شارحین کے مطابق یہ معنی (باطنی حقیقت کے مقابلے میں) فقط اصل پر ڈالا گیا پردہ ہے۔ اصلاً نرک مادے کے کروں میں موجود دنیائیں ہیں۔ یوں یہ سیاروی سلسلوں کے کرے ہیں۔ وجہ تسمیہ ان کا بے ہیت غیر مادی کروں کے مقابلے میں مادی ہونا ہے۔ یہ تمام نرک ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایک نرک میں مر جانے والا فوراً دوسرے نرک میں جنم لیتا ہے۔ اس کے بعد تیسرے، چوتھے اور اسی طرح تمام نرکوں کا عذاب بھگتتا ہے۔ ہر نرک میں پانسو برس (یہ تعدا ایک بار پھر ادوار اور نئے جنم کو چھپانے کا ایک طریقہ ہے) گزارنا ہوتے ہیں۔ ان دوزخوں کا شمار چھ ایسے وجودوں میں ہوتا ہے جن کا احساس کیا جاسکتا ہے اور چونکہ لوگوں کا اپنے لوگوں کا اپنے خیر و شر کے مطابق ان میں سے کسی ایک میں پیدا ہونا بیان کر دیا گیا ہے، چنانچہ صاف پتہ چلتا ہے نرک سے اصل مراد وہ نہیں جو عموماً لی جاتی ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. منو دھرم شاشتر گلوسری (کشاف اصطلاحات) ترجمہ ارشد رازی