01 فجر سحر کے فوراً بعد فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو سورج نکلنے تک ہوتا ہے

02 :ظہر

زوال کے تقریباً 15منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب سایہ قد سے بڑھ جائے

03 عصر

جس وقت سایہ قد سے دگنا ہوشروع ہوتا ہے اور سورج ڈوبنے تک ریتا ہے

04 مغرب

سورج ڈوب جانے کے فوراً بعد

05 عشاء


مغرب کے تقریبا سوا گھنٹے بعد شروع ہوتا ہے اور نصف رات تک رہتا ہے ۔

آدم، شعبہ، سیار بن سلامہ کا بیان ہے کہ میں اور میرے باپ ابوبرزہ اسلمی کے پاس گئے اور ان سے نمازوں کے اوقات پوچھے، تو انھوں نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز جب آفتاب ڈھل جاتا تھا، اس وقت پڑھتے تھے اور عصر کی ایسے وقت پڑھتے تھے کہ آدمی مدینہ کی انتہا تک لوٹ کر جاسکے اور آفتاب میں زردی نہ آئی ہو، سیار کہتے ہیں اور میں بھول گیا کہ مغرب کے بارے میں ابوبرزہ نے کیا کہا اور آپ عشاء کی تاخیر میں ایک تہائی رات تک کچھ پروا نہ کرتے تھے اور عشاء سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور صبح کی نماز آپ ایسے وقت پڑھ لیتے تھے کہ آدمی فارغ ہو کر اپنے پاس والے کو پہچانتا تھا اور آپ دونوں رکعتیں یا ہر ایک میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سو تک پڑھتے تھے۔     صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 742