پاؤل الیگزینڈر (انگریزی: Paul Alexander) کو 1952ء میں 6 سال کی عمر میں پولیو ہوا ، جس سے اُن کا سارا جسم شل ہو گیا۔ اس وقت ایسے مریضوں کو لوہے کے پھیپھڑے (آئرن لنگ) میں رکھا جاتا تھا۔ اس کی ایسے درجنوں بچوں کو ان مشینوں میں رکھا گیا تھا۔ تاہم پاؤل الیگزینڈر کے سوا سب بچے فوت ہو گئے۔ پاؤل الیگزینڈر نے اسی مشین میں رہتے ہوئے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل بھی کی۔انہوں نے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی اور اب پورے امریکا میں صرف داحد ایسی شخصیت ہیں جو اس مشین میں زندہ ہیں۔

حوالہ جاتترميم