وہ لوگ جو دشمن کی صف کو پل بھر میں مٹی کا ڈھیر بنا دیں۔ اُنہیں پورس کے ہاتھیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

پس منظرترميم

آج سے 2500 سال پہلے، سکندر نے ملک گیری کی ہوس میں اس علاقے پرحملہ کیا جو آج پاکستان کہلاتا ہے۔ اس علاقے کے بہادر مہاراجا پورس نے اس کے مقابلے کے لیے ایک زبردست فوج تیّار کی۔ اس فوج کی اہم ترین چیز ہاتھیوں کا دستہ تھی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس دستے میں سو یا زیادہ اس سے بھی زیادہ ہاتھی تھے۔ ' اس زمانے کی جنگ میں ہاتھی پر بیٹھے ہوئے سورما تک پہنچنا بہت مشکل تھا۔ جبکہ ہاتھی شمشیر زنوں، شہسواروں، تیر اندازوں اور نیزہ بازوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دشمن کی صفوں کو تہس نہس کر دیتے تھے۔جب یونانیوں نے حملہ کیا تو ہاتھیوں نے سپاہیوں کو کچل ڈالا۔ اور سکندر کو شکست خوردہ اور پورس کو فاتح ٹھہرایا۔ دریائے جہلم کے کنارے لڑی جانے والی اس جنگ میں مہاراجا نے بہادری کے جوہر دکھائے اور سکندر اور اُسکی فوج کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ ۔ سکندر کی زندگی کی یہ آخری جنگ تھی۔ وہ اس جنگ میں برچھا لگنے سے زخمی ہوا اور پانچ دن بعد مقدونیہ واپس جاتے ہوے مر گیا۔