موہنجودڑو سے اسی میل جنوب میں چھنودڑو ہے۔ کبھی دریائے سندھ اس کے دامن کو چھوتا کر گزرتا تھا۔ اب دریا یہاں سے بارہ میل دور ہے۔ اس میں اوپر تلے تین ثقافتی ادوار مدفون ہیں۔ سب سے نیچے وادی سندھ کی تہذیب ہے۔ جو عمارتوں کی تین سطحوں پر مشتمل ہے۔ گویا اس میں تین رہائشی سطحیں ہیں اور یہ سب ایک دوسرے سے سیلاب کی گاد سے جدا ہیں۔ ہر بار شہر سیلاب سے تباہ ہوا۔ سندھ تہذیب کی سطح تین جو تین آبادیوں پر مشتمل ہے۔ جہاں ختم ہوتی ہے اس کے نیچے جھوکر ثقافت اور جھنگر ثقافت ہے۔ سب سے نچلی سطح کے نیچے بہت کچھ ہوگا۔ مگر زیر زمین پانی نیچے کھدائی میں مانع ہے۔ یہ شہر کم از کم دو مرتبہ سیلاب سے غرق ہوا اور دوبارہ تعمیر ہوا۔ یہ ایک صنعتی شہر تھا۔ جس میں زیادہ تر گھر دستکاروں کے تھے۔ کئی جگہ کانسی یا تانبے کے ڈھلے ہوئے اوزار ڈھیروں کی صورت میں ملے ہیں۔ ان پر صفائی، رگڑائی وغیرہ کا کام ہونا ابھی باقی تھا۔ تو یہ کسیروں اور ٹھٹھیروں کے گھر تھے۔ بعض گھر منکا سازوں کے تھے۔ کچھ گھونگے اور ہڈی کی اشیائ بنانے والوں کے گھر تھے۔ کچھ مہریں بنانے والوں کے گھر تھے۔ یہ وہی مشہور مہریں ہیں جن پر وادی سندھ کی تحریر ہے ۔

منکے بنانے والوں کے گھر میں پختہ اینٹوں کا فرش ہے۔ جس کے نیچے تانے بانے میں کاٹتی ہوئی زمین دوز نالیاں تھیں۔ اس کمرے کی دیواریں کافی باریک تھیں۔ اس میں راکھ یا آگ جلنے کا کوئی دوسرا نشان نہیں ملا ہے۔ فرش پر، نہ نالیوں میں۔ شاید یہ کارخانہ بنانے کے بعد ہی چھوڑ دیا گیا۔ اکثر فیکٹریوں میں آدھا تیار مال ڈھیروں کی صورت میں ملا ہے۔ جس کا مطب ہے شہر کو افراتفری میں خالی کیا گیا ۔

جھوکر ثقافتترميم

اس کے بعد وادی سندھ کی تہذیب کے آخری زمانے کی جھلکیاں ملتی ہیں اور اس کے بعد جھوکر ثقافت کے آثار ہیں۔ ماہرین آثار یہ بنانے سے قاصر ہیں کہ شہر خالی کیوں ہوا۔ پرانے لوگ کہاں چلے گئے اور نئے لوگ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ البتہ اتنا ضرور طے ہے کہ نئے لوگ پپہلے والوں کی نسبت بدرجہا غریب تھے۔ جنہوں نے خالی مکانوں میں چٹائی کی جھگیاں ڈال لی تھیں۔ اور چھونپڑیوں کے باہر انہوں نے چولہے بنائے تھے۔ جن کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی دیواریں تھیں۔ جن کا کام چولہوں کو ہوا سے بچانا تھا ۔

ارض پاکستان کی قبل تاریخ پر غور کرنے والوں کا خیال ہے کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے۔ حالانکہ ہر تباہ شدہ بستی میں ہر دفعہ یہ ثبوت ملتا ہے کہ پہلے لوگ امیر، خوشحال اور فنون اور دستگاریوں میں ماہر تھے اور باہر سے آنے والے غریب، کھردرے اور فنون اور دستکاریوں میں پس ماندہ تھے۔ پھر ان کے اسالیب ارد گرد کی نسبتاً چھوٹی بستیوں میں قدیم تر زمانے سے مل جاتے ہیں، لیکن اندرونی انقلاب اور اندرونی حرکیات پر ان کی نظر نہیں جاتی۔ خاص کر جھوکر ثقافت کے ظروف کی مماثلت آمری ظروف سے بہت زیادہ ہے۔ جس کا مطلب صاف ہے کہ نئے لوگ بھی اسی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے اور کہیں باہر سے نہیں آئے تھے۔ اس تبدیلی کی نوعیت کا تعین کرنے میں شاید دیر لگے کہ آیا یہ شہری دیہاتی کشمکش تھی یا زراعت پیشہ اور گلہ بان قبائل کاٹکراؤ۔ شاید ابھی مرکزی حکومت نہیں بنی تھی۔ اس لیے ٹکراؤ ہوا اور شہری اقتدار تباہ ہوا۔ جھوکر ثقافت کا زمانہ 2000 ق م کا ہے ۔

چنھودڑو میں جھوکر ثقافت کی دوسرے نمایاں چیزوں میں گول بٹن جیسی مہریں جو مٹی سے بنائی گئی ہیں اور ان پر روغن کیا گیا ہے۔ اکا دکا حیوانی مجسمے ملے ہیں۔ جو نہایت بھدے ہیں۔ عام طور پر مہروں پر سورج کی تصویر بنائی گئی ہے۔ جس کے گرد روشنی کا حالہ ہے۔ ایک تانبے یا کانسی کا پن بھی ملا ہے۔ جس کے دو گھنگرالے سرے ہیں۔ جھوکر ثقافت میں چاک پر برتن بنتے تھے۔ البتہ کبھی کبھی ہاتھ سے بنالیتے تھے ۔

جھنگر ثقافتترميم

چنھودڑو کی سب سے اونچی سطح جھنگر ثقافت کی نمائندہ ہے۔ اس ثقافت کی ایک دلچسپ خصویت یہ ہے کہ لوگ چاک پر مٹی کے برتن نہیں بناتے تھے بلکہ چکر پر بناتے تھے۔ چکر لکڑی یا پختہ مٹی یا بھتر کی ایسی گول تختی ہوتی تھی جسے زمین پر رکھ کر پاؤں سے گھماتے جاتے تھے۔ یہ ست رو چیز ہوتی تھی۔ چکر پر بنے برتنوں کا رنگ خاکستری یا سیاہ تھا اور ان میں کھدائی کے نمونے ہوتے تھے۔ گویا جھوکر سے بھی ایک قدم پیچھے سفر تھا ۔

ماخذ

یحیٰی امجد۔ تاریخ پاکستان قدیم دور