کلی ثقافت

چوڑیوں کے سائز کا کیسےپتہ چلتا ہے؟

بلوچستان کے شہر خصدار میں ایک ٹیلہ ہے جس کا نام کلی ہے ہے۔ اس کا طول عرض 200 گز سے زیادہ ہے۔ سب سے پہلے اس کی کھدائی اورل سٹین نے کروائی تھی۔ اس میں مدفون شہر تقریباً پچیس ایکڑ پر مشتمل ہے اور اس کی گہرائی تقریباً 10 میٹر ہے۔ اس کا زمانہ تقریباً 3000 ق م سمجھا جاتا ہے۔

کلی میں سب سے زیادہ تعمیراتی باقیات ملی ہیں۔ ایک شہر ہے جس کے اندر الگ الگ مکان ہیں۔ مکانوں میں کمرے ملے ہیں۔ جن میں کھڑکی دروازے نہیں ہیں۔ کچھ پتھر کی دیواریں اندر سے پلستر شدہ بھی ہیں۔ کمروں کے سائز 12 * 8 سے لے کر 6 * 8 فٹ تک ہے۔ ایک ٹوٹا ہوا زینہ بھی ملا ہے۔ اس کا مطلب ہے یا تو بالائی منزل تھی یا کم از کم چھت مکینوں کے استعمال میں تھی۔

شہر میں ایک جگہ پر رتیلے پتھر کی ترشی ہوئی سلوں کا ایک راستہ ملا ہے۔ اسی شہر میں ایک دوسری جگہ ایک گھر میں لکڑی کے مظبوط تختوں کا فرش ملا ہے۔ جو ایک تہ خانے کے اوپر ہے اور گراؤنڈ فلور کے کمرے کا فرش ہے۔ نندارہ میں بھی کلی کے گھروں کی طرح کھڑکی دروازوں کے بغیر تہ خانے ملے ہیں۔

کلی شہر میں ملبے کے چار فٹ نیچے ایک دفن شدہ لاش بھی ملی ہے۔ جو پہلو کے بل لیٹی ہوئی تھی اور گھٹری سی بنی ہوئی تھی۔ جیسے بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ اس کے ہمراہ کوئی برتن یا اوزار یا ساز و سامان نہیں ملا ہے۔

دوسرے شہر

ترمیم

میہی کے ملبے میں ایک چھ فٹ گہرا قبرستان ملا ہے۔ جس میں کئی لاشیں مدفون ملی ہیں۔ ان کی حالت سے دفنانے کی رسوم پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً کچھ قبروں کے اندر برتنوں میں جلی ہوئی ہڈیاں ملی ہیں۔ بعض جگہ برتن کے بغیر اور جلی ہوئی ہڈیاں دفن کردی گئی ہیں۔ ان سب لاشوں کے ساتھ مٹی کے برتن، مٹی کی موتیاں اور تانبے کی اشیائ بھی ملی ہیں۔ کل دس قبریں کھودی گئی تھیں۔

آمری نال اور کلی ثقافتوں میں تمام شہر ٹیلوں کی شکل میں مدفون ملے ہیں۔ ان سب کی چوڑائی اونچائی اور شکل و شباہت کم و بیش ایک سی ہے۔ ان میں اکثر و بیشتر کی چوٹی کا طول و عرض بیس سے لے کر تیس فٹ کا۔ رقبہ تقریباً 200 گز مربع سے لے کر 175 * 150 تک ہے۔ اس طرح مدفون آبادیوں کا کل رقبہ اوسطاً دو ایکڑ کے قریب یا کم و بیش ہے۔

ان تمام شہروں کی تعمیرات میں عام طور پر پتھر کا استعمال ہوتا تھا، البتہ پتھر کے استعمال میں کاریگری کی مہارت مختلف سطحوں پر نظر آتی ہے۔ کہیں پر مٹی کی دیواریں بنی ہیں۔ جن میں کھردرے بے ڈھب پتھر کے چھوٹے بڑے ٹکڑے بغیر کسی ترتیب کے جمادیئے گئے ہیں۔ کہیں باقیدہ گھڑ کر مربع شکل کی پتھر کی سلیں بنائی گئیں ہیں اور ان کی مٹی کے گارے کے ساتھ دیواروں کی چنائی کی گئی۔ پھر ان پر ردے جمانے میں جمالیاتی پہلوؤں کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ اکثر شہروں میں یہ پتھر دو دو میل دور سے لائے گئے۔ بعض دیواروں کی بنیادیں پتھر کی ہیں اور باقیدہ دیوار کچی اینٹوں سے بنی ہے۔ ان اینٹوں کا سائز 19 * 10 * 3 انچ ہے۔

نندارہ کی اینٹیں بھی نال کی بڑی اینٹوں کے برابر ہیں۔ نال کے بعض کمروں میں سنگریزوں یا کنکروں سے جو آج کل ماربل چپس طرح گارے میں گوند کر فرش بنائے گئے ہیں۔ بعض کمروں کی چھت میں لکڑی کے جلے ہوئے شہتیروں کا ثبوت ملا ہے۔ سہرو دمب میں جو مٹی ملی ہے اس کا رنگ لال ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ شہر چلایا گیا ہے۔ سوہر کا مطلب لال ہے اور دمب بروہی میں ٹیلہ کو کہتے ہیں۔

وادی سندھ کی تہذیب پر اثرات

ترمیم

نال اور آمری کے برعکس اس شہر میں عورتوں کی سفالی مورتیاں ملی ہیں۔ یہ دیوی ماں کی ہیں۔ اب مذہب ان کی زندگی میں دخیل ہو چکا تھا۔ کچھ بیلوں کی رنگین مورتیاں بھی ملی ہیں۔ اس طرح مٹی کی کھلونا گاڑیاں بھی ملی ہیں۔ جو بعد میں وادی سندھ کی تہذیب میں عام ہوئیں۔ بیلوں کے مجسموں پر سر سے لے کر دم اور کھروں تک میں رنگ کیا ہوا تھا۔ ان مجسموں کی شکلیں نندارہ برتنوں پر ملی ہیں اور ان پر بھی اسی طرح رنگ کیا ہوا ہے۔ لگتا ہے وہی برتن ساز جو پہلے برتنوں پر بیلوں کی رنگین تصویر بنایا کرتے تھے اب ان تصویروں کو مجسمے میں ڈھانے لگے۔ یہ مجسمہ سازی کا آغاز تھا۔

کلی مورتیوں میں لڑکیوں اور عورتوں دوسرے زیورات بھی پہنائے گئے۔ مثلاً چوڑیاں، کنگن۔ ان میں دلچسپ بات نظر آتی ہے کہ دائیں ہاتھ میں صرف کلائی کی چوڑیاں پہنی گئی ہیں۔ لیکن بائیں ہاتھ میں کلائی سے لے کر کہنی تک بلکہ اس سے بھی آگے تک بعض جگہ کندھے تک چوڑیاں بھری ہوئی ہیں۔ اس سے پگٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شاید ساڑھی نما کوئی لباس پہنا جاتا تھا کہ دائیاں بازو ملبوس تھا اور بائیاں بازو سارا یا آدھا برہنہ رہتا تھا۔

وادی سندھ کی تہذیب کا ایک شاندار نمونہ فن کانسی کی بنی ہوئی موہنجوڈارو کی رقاصہ ہے اس کے بالوں کی بناوٹ وہی ہے جو کلی کی مٹی کی زنانہ مورتیوں کی۔ یعنی اس نے بالوں کو بھاری چھلے کی شکل میں سر کے پیچھے گدی میں باندھا ہوا ہے اور اسی طرح اس نے دائیں کلائی میں دو چوڑیاں پہنی ہوئیں اور بائیں بازو کو کلائی سے لے کر کندھے تک چوڑیوں سے بھر رکھا ہے۔ یہ سارے انداز کلی تہذیب کے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ قدیم بلوچستان اور اس کے بعد کے سندھ میں مورتیاں ایک جیسی بنتی تھیں۔ بلکہ یہ کہ لوگوں کی زندگی، عورتوں کے فیشن، سماجی اقدار، بناؤ سنگھار، عورت کا سماجی مقام اور منصب قدیم زمانے سے ان سب علاقوں میں ایک جیسے تھے۔ اس لیے گدروشی ثقافت وادی سندھ کی عظیم ثقافت کا پیش خیمہ ہے۔

برتن اور ان پر مصوری

ترمیم

کلی ثقافت سے تعلق رکھنے والے مقامات سے جو برتن ملے ہیں ان کی ساخت اور ان پر کی گئی نقاشی منفرد ہے۔ جانور پٹی کی طوالت کو بھرنے کی غرض سے ضرورت سے زیادہ لمبے بنائے گئے ہیں۔ گو پیٹ کی موٹائی اور ٹانگوں کی اونچائی آپس میں متناسب ہے۔ لیکن لمبائی زیادہ ہے۔ ان کے پس منظر میں ٹانگوں کے بیچ میں بکریوں کی ننھی منی تصویروں کی بھرمار ہے اور پرندوں کی علامتی تصویریں ہیں۔ جو محض بنانے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ ایک برتن میں مچھلی بنی ہوئی ہے۔ دیگر تمام برتنوں پر جانوروں سے بچی خالی جگہوں پر درخت، پودے، کنگنیاں، تکونیں اور دگر سجاوٹی نمونے بنے ہوئے ہیں۔ جن سے ان کی کمپوزیشن کی مہارت کا احساس ہوتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے کلی تصاویر میں مہارت اور معنویت کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ بعد کی تصویروں میں بے مقصد لکیروں اور نمونوں کی بھرمار ہے۔ بھدی موٹی لکیروں سے بنی جانوروں کی بے ہنگم تصویریں بڑھ جاتی ہیں۔ عروج کے زمانے میں ایک جگہ ایک گائے ایک اونچے سٹنڈ سے بندھی ہوئی ہے اور کی طرف منہ کیے کھڑی ہے۔ اس سٹنڈ پر مستطیل شکل کا برتن بنا ہے۔ ( چھوٹی سی کھرلی ) بعض ماہرین نے اسے مقدس آتش دان قرار دیا ہے۔ آتش دان کے آگے مقدس پیپل کا درخت ہے۔ جو تجریدی شکل کا ہے۔ یہ تصویر معنوی اور صوری اعتبار سے کلی مصوری کا شاہکار ہے۔ اس میں معنوی تکمیل بھی ہے اور فنکارانہ مہارت بھی ہے۔ یہ فنکاری کے حوالے سے تین قسمیں سامنے آتی ہیں۔ ایک وہ جو خالص ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے وادی سندھ کی تہذیب اور کلی ثقافت کا ملاپ۔ تیسرا خالص وادی سندھ کے رنگ دھنگ ہیں۔ درمیانی صورت کو ماہرین کلی ثقافت کا آخری دور سمجھتے ہیں اور ایسا مواد زیادہ تر میہی سے ملا ہے۔ اس کے بعد وادی سندھ کی تہذیب ہر طرف چھاجاتی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے علاوہ بلوچستان میں بھی۔ بلوچستان میں تین مقامات پر ایسے ظروف ملے ہیں جو وادی سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ستکگین دور کے مقام سے جو برتن ملے ہیں وہ ہو بہو وادی سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح میہی کے مقام سے جو برتن نکلے ہیں وہ بھی زیادہ تر وادی سندھ کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں اور ان پر کلی کے اثرات ثانوی نظر آتے ہیں۔ یعنی ان برتنوں کی بناوت بالکل وادی سندھ جیسی ہے۔ لیکن ان پر کی گئی مصوری پر کچھ اثرات کلی ثقافت کے نظر آتے ہیں۔ یہاں سے پائدانوں والی طشتری ملی ہے جو بالکل بالکل وادی سندھ جیسی ہے۔ اس طرح کئی ظروف پر نقاشی بھی وادی سندھ کی تہذیب کے اثرات لیے ہوئے ہے۔ خود اصل کلی ثقافت پر بھی وادی سندھ کے اثرات صاف نظر آتے ہیں۔ برتنوں کی ساخت میں وادی سندھ کے جو دیگر اثرات بلوچستان میں پائے گئے ہیں، ان میں گلوب کی شکل کے پیالے، چھوٹے پیندے والے مرتبان، لمبے بوتل کی شکل کے گلدان، چھوٹی تھالیاں اور عمودی دیوار والے پیالے شامل ہیں۔ برتنوں کی یہ شکلیں خاص وادی سندھ کی تہذیب ( ہڑپہ ) سے مخصوص ہیں اور یہ ساری شکلیں ہم عصر بلوچستان میں بھی نظر آتی ہیں۔ بڑے بڑے مٹی کے مٹکے جن میں بعض پر آرائیشی کام کیا گیا ہے۔ بعض کلی برتنوں پر آرائشی نمونوں کے بیچوں بیچ خالی پٹی چلی گئی ہے۔ جس پر جانوروں کی کمال کی حقیقت پسندانہ تصاویر بنائی گئیں۔ ان تصاویر میں جانور مخٹلف ذہنی اور جسمانی حالتوں میں دیکھائے گئے ہیں۔ مثلاً شیر حملے کرنے کے لیے پیچھے ہٹتا ہے اور غراتا ہے۔ یا مویشی کھونٹے میں بندھے ہوئے یا بیل رسہ تڑوا کر کسی پودے کے پتے کھاتے ہوئے یا دم ہلاتے ہوئے۔ گویا برتنوں پر بنی مصوری اصل آرائش کی حثیت رکھتی ہے اور خطوط اور نشانات سے بنے ہوئے دوسرے تمام نمونے ثانوی حثیت رکھتے ہیں۔

عموماً ایک برتن پر دو بڑے جانور بنائے گئے ہیں۔ زیادہ تر بھینس اور بھینسے یا گائے بیل جن کی بڑی بڑی ابھری ہوئی کوہان بنائی گئی ہے۔ پگٹ کا خیال ہے گائے بیل کا جوڑا اکثر برتنوں پر بنایا جاتا ہوگا۔ گو مواد بہت محدود دستیاب ہے۔ پیپل کے پتے اور درخت کی تصویریں بے شمار برتنوں پر ملتی ہیں۔ یہ تصویریں سب کی سب سیاہ رنگ سے بنائی گئیں ہیں۔ جن کے بنانے میں نرم بالوں کا برش کا استعمال ہوتا ہے۔ جانوروں کی شکلوں کے اندر رنگ یا تو برش سے بھر دیا گیا ہے یا باریک نفیس خطوط گھنے کر کے لگا دیے گئے ہیں۔ آنکھیں عموماً بہت بڑی اور گول ہیں۔ جسم کی لمبائی بھی عموماً زیادہ ہے۔ لیکن ٹانگیں، کھر اور دم متناسب ہیں اور حقیقت کے قریب ہیں۔ بعد کے دور زوال میں جسم کی لمبائی گول مول اور دیگر اعضائ بے ڈھب ہوجاتے ہیں۔

پورے پاکستان میں مویشیوں کی تصویریں کوہان والی ہیں، سو یہاں بھی ہیں۔ مویشیوں کے ساتھ بکریوں تصویریں بھی ہیں۔ مگر تجریدی ہیں اور چند بیساختہ لکیروں پر مشتمل ہیں۔ ان کے سینگ بہت بڑے ہیں اور پیچھے کو مڑے ہوئے ہیں۔ بعض تھالیوں پر مچھلیاں ایک قطار میں آگے پیچھے دائرہ مکمل کرتی ہیں۔ شیر، چیتے اور بلی کے قبیلے کے دوسرے جانوروں کی تصویریں بھی ملتی ہیں۔ ان کے پاؤں پنجہ نما بنائے گئے ہیں اور ان کی آنکھ پورے جسم پر چھائی ہوئی ہے۔ آنکھ کا بڑا بنانا غالباً تیز بصارت کے اظہار کے لیے ہے۔ بکری کی آنکھ سرے سے ہی غائب ہے۔ جس کا مطلب ہے آنکھ کی وسعت محض فنکار کی عادت نہیں بلکہ کسی نہ کسی مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔ مویشیوں اور جانوروں کے علاوہ درختوں، پودوں اور پتوں کی تصویریں ان گنت برتنوں پر بنائی گئی ہیں۔

مورتیاں

ترمیم

کلی ثقافت کی نمایاں ترین انفرادیت مٹی کی وہ مورتیاں ہیں جو کثیر تعداد میں ان علاقوں سے ملی ہیں۔ ان میں عورتوں اور جانوروں کی مورتیاں شامل ہیں۔ یہ مٹی کی بنی ہوئی ہیں اور بھٹی میں پکائی گئی ہیں۔ جانوروں کی مورتیوں پر مختلف رنگوں سے لکیریں لگائی گئی ہیں اور سجاوٹی نمونے بنائے گئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جانوروں کی شکل وہی ہے، جو برتنوں پر مصور جانور مصور کی ہے۔ البتہ عورتوں کی مورتیوں پر کئی ثقافتی رنگ آمیزی نہیں کی گئی ہے۔ ان مورتیوں کی حثیت کا ابھی تعین نہیں کیا گیا ہے۔ یہ کھلونے بھی ہو سکتے ہیں اور دیوی دیوتاؤں مجسمے بھی اور دونوں چیزیں ملی جلی بھی ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے انسانی مورتیاں تمام کی تمام ناف سے اوپر کی ہیں اور پیٹ چپکا ہوا ہے۔ چھاتیاں سباٹ ہیں۔ ناک، آنکھیں اور کان بڑے بڑے ہیں۔ ان کے گلے میں سیپیوں کے ہار پڑے ہیں۔ سیپیوں کے ماہرین نے اندازاہ لگایا ہے کہ یہ دھرتی ماتا کی مورتیاں ہیں اور ان کی اہمیت طسلمی یا مذہبی ہے اور ان کا تعلق افزائش نسل اور فضل کی رسومات سے ہے۔ کیوں کہ سیپی کی شکل عورت کی فرج سے مشابہہ ہوتی ہے اور فرج تخلیق کی علامت ہے۔ تخلیق دھرتی ماتا کی خاص سنت ہے۔ اگر یہ قیاس آرائی صحیح ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ دور دراز کے دیہاتوں میں لوگ گھروں میں ان مورتیوں سے جادو ٹوٹکہ کرکے تسخیر کائنات اور افزائش نسل و فضل کا یا دعا و مناجات کا کام لیتے تھے۔ یعنی یا تو یہ جادو کا زمانہ تھا یا مذہب کی ابتدا کا اور مذہب نے ابھی ایسے ادارے کی شکل اختیار نہیں کی تھی جس میں سیاسی اقتدار بھی مرتکز ہو چکا ہو۔ ابھی پروہت بادشاہ کا دور شاید نہیں آیا تھا۔

عورتوں کی ادھ مورتیاں جو ناف سے اوپر بنی ہیں، ان کا پیندا چوڑا بنایا گیا ہے، تاکہ یہ ہموار سطح پر کھڑی رہ سکیں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ کمر یا سینے پر رکھے ہوئے ہیں، ان کی شکلیں ڈراونی ہیں اور یہ ہاروں سے لدی پھندی ہیں، یہ ہار مورتی کا حصہ ہیں اور یہ الگ سے نہیں پہنائے گئے ہیں۔ بال مختلف طریقوں سے بنائے گئے ہیں۔ کہیں جوڑا بنا ہوا ہے۔ کہیں بال کھلے کمر پر لٹک رہے ہیں۔ کہیں شانوں سے ہوتی ہوئی دو چوٹیاں آگے کو لٹکائی گئی ہیں۔ ان کی چوٹیاں تو بنائی گئیں ہیں۔ مگر پراندے نہیں لگایا گیا ہے۔ فنکاروں نے چہرے کے نقوش بنانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ البتہ بالوں کے اسٹائل اور زیوارات دیکھانے میں نہایت باریک بینی، تفصیلات اور فنی مہارت سے کام لیا ہے۔ قدیم ہندوستان کے برعکس ان کے جینسی اعضاء کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس قیاس ہوتا ہے کہ یہ بچوں کی گڑیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن ایک جفاکش سماج کی دیوی ماتائیں بھی ہو سکتی ہیں۔ جہاں مشقت طلب زندگی ہونے کے باعث جینسی تلذذ ان کے دماغوں میں نہیں چھایا ہو۔

ان گردنوں میں منکوں کی مالائیں پڑی ہوئی دکھائی گئی ہیں۔ بعض مورتیوں کی گردنوں میں منکوں کا تین لڑا، چار لڑا ہار بھی پڑا ہے۔ ان میں سب سے چھوٹا ہار گردن کو چھو رہا ہے۔ یہ گلوبند بڑے منکوں پر مشتمل ہے۔ جب کہ دونوں بڑے ہار چھوٹے منکوں کے ہیں۔ سب سے بڑا ہار پیٹ تک پہنچتا ہے۔ بعض جگہ کوڑیوں کا ہار پہنا ہوا ہے۔ بعض جگہ تین یا چار گلوبند اور اتنے ہی ہار پہنائے ہوئے ہیں۔ کانوں میں پہنے کے تکونے زیورات بھی ملے ہیں۔ یہ تکونے زیور بعد میں وادی سندھ کی تہذیب کے بیشتر شہروں میں ملتے ہیں۔

مویشیوں کی مورتیاں

ترمیم

مویشیوں کی مورتیاں بھی مٹی کی ہیں اور بھٹی میں پکائی جاتی تھیں۔ ان کی تعداد زنانہ مورتیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مثلاً کلی میں ایک چھوٹی سی کھدائی میں چھیاسٹھ مورتیاں ملی ہیں اور شاہی ٹمپ میں پچاسی۔ یہ ایک ڈھیر کی شکل میں ملی ہیں۔ جس کا انداز ایسا ہے کہ یہ نہ تو کمھار کی بھٹی لگتا ہے اور نہ کھلونوں کی دکان۔ بلکہ دھرتی ماتا پر بھینٹ چڑھائے گئے جانوروں کا ڈھیڑ لگتا ہے۔ جادو کے خیالات یا مذہبی تصورات کی ساری تفصیلات آپس میں ہم ’آہنگ ہیں۔ یہ لوگ مردوں کو دفن کرتے تھے۔ ان کے ساتھ برتن اور اشیائ رکھ چھوڑ آتے تھے۔ جانوروں کی قربانی دیتے تھے، گوشت خور تھے، گائے کا دودھ پیتے تھے، فضلیں اگاتے تھے، گاؤ ماتا کی تعظیم کرتے تھے اور پیپل کے درخت کو اہم سمجھتے تھے۔ مرکزی ریاست نہ تھی، مذہبی پیشوا نہ تھے، جادوگر نہ تھے۔ لوگ ساری رسومات کھر پر ہی ادا کرتے تھے۔ یا کبھی کبھار جب زیادہ خشک سالی ہوتو مویشیوں کی مورتیوں کو دھرتی ماتا پر اجتماعی چھڑھاوا چڑھاتے تھے۔

مویشیوں کی ان مورتیوں کی لمبائی تین سے چار انچ ہے۔ من دمب سے ایک بیل کی مورتی ملی ہے جس کی کوہان اور اس کی ٹانگوں میں سوراخ ہے۔ جس کا مطلب ہے پیروں چار پہیے لگانا مقصود تھے اور کوہان میں دھاگا باندھنا۔ دھاگے کا مطلب ہے کپاس اگائی جاتی تھی اور کپڑے بنائے جاتے تھے۔ یہ شاید کسی بچے کا کھلونا تھا۔ اس طرح میہی میں ایک برتن کے پاس مٹی کا کتا ملا ہے۔ یہیں کچھ مٹی کے پرندے ملے ہیں۔ پرندے کی دم سے چونچ تک اندورنی سوراخ ہے۔ اگر آج بھی دم منہ میں رکھ کر زور سے پھونک ماریں تو نہایت تیز سیٹی بجتی ہے۔ یہ بچوں کی سیٹیاں تھی۔

مٹی کے بنے ہوئے پہیوں والے بیل اور چھکڑے کئی جگہوں مثلاً کلی، میہی شاہی ٹمپ، جنہو ڈرو، ماشکئی مکران کے علاقے میں ملے ہیں۔ پگٹ کا خیال ہے یہ مقامی مصنوعات نہیں، بلکہ وادی سندھ کے شہروں سے لائے گئے ہیں۔ بہر حال یہ مقامی ہوں یا وادی سندھ کے شہروں سے درآد۔ دونوں صورتوں میں بلوچستان وادی سندھ سے مربوط ہونے کا ثبوت ہیں۔

مٹی کے علاوہ کچھ تراشے ہوئے برتن بھی کلی تہذیب کا حصہ ہیں۔ پتھر کی سلوں کو لے اندر اور باہر تراش کر پیالے، مگ اور سلینڈر وغیرہ بنائے جاتے تھے۔ ان میں اکثر دو یا تین انچ لمبے چوڑے اور دو انچ اونچے ہیں۔ ایک چوکور چار انچ مربع برتن ملا ہے۔ جس میں چار خانے تراشے گئے ہیں۔ ایسے برتن زیادہ میہی سے ملے ہیں۔ یہ بھی وادی سندھ کی تہذیب کے حجری برتنوں جیسے ہیں۔ بعض برتنوں پر کھدائی سے مینا کاری کی گئی ہے۔ بعض تکونے حصے بنے ہیں۔ غالباً یہ برتن سنگھار کا سامان رکھنے کے کام آتے تھے۔ پتھر کے ایسے ہی برتن موہنجوڈارو کی قدیم تریں رہائشی سطحوں سے بھی ملے ہیں۔ جس کا مطلب ہے پتھر سے برتن بنانے کے اسالیب بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں اس قدیم ایک جیسے ہی تھے۔

متفرق اشیاء

ترمیم

میہی سے ایک دلچسپ ترین چیز ملی ہے اور وہ تامبے کا ایک گول آئینہ ملا ہے اور اس کا ایک دستہ ہے جو عورت کے جسم۔۔۔ کمر پر رکھے بازؤں اور چھاتیوں۔۔۔ کی تجریدی شکل کا ہے۔ آئینے کا قطر پانچ انچ ہے اور دستے کی لمبائی تین انچ سے کچھ زیادہ ہے۔ اس کا اسلوب وہی ہے جو کلی ثقافت میں مٹی کی بنی زنانہ مورتیوں کا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ آئینہ اسی علاقے میں بنایا گیا ہے۔ اس طرح کا تامبے کا آئینہ پورے مغربی ایشیا اور میسوپوٹیمیا میں قدیم زمانے میں کہیں ملا۔

میہی کے قبرستان میں جو اشیائ ملی ہیں ان میں تامبے کے دو آئینوں کے ساتھ ایک تامبے کا پن بھی ملا ہے۔ ان میں سے ایک کا سرا چپٹا سا دائرہ نما ہے اور دوسرے کے سرے پر لاجور کا ایک منکا چڑھا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بالوں میں لگانے والی سوئیاں ہیں۔ تامبے کے ایک گلو بند کے ٹکرے ملے ہیں۔ ایک تامبے کا ٹوٹا ہوا پیالہ بھی ملا ہے۔ اس کے تجزیے سے معلوم ہو اس میں نکل کی آمزش بھی کی گئی ہے۔ کلی سے بھی تامبے کا ایک پن ملا ہے اور اس کا سرا قدرے خمدار ہے۔

کلی کی متفرق چیزیں ملی ہیں۔ ان میں کلی سے ملنے والا ایک پتھر کا ایک کھرل اور موصل بھی ملا ہے۔ یہ یقناً اناج پیسنے کے کام آتے تھے۔ شاہی ٹمپ اور مزرنہ دمب سے نیلے پتھر کے چاقو ملے ہیں۔ یہ آمری نال کے حجری اوزار سے ملتے جلتے ہیں اور قدیم زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کلی سے لاجورد اور عقیق کے منکے ملے ہیں۔ کلی ایک اور نہایت دلچسپ چیز ملی ہے یہ پتھر کا بنا ہوا ایک ستون ہے۔ یہ ستون آٹھ انچ اونچا اور قطر چار انچ ہے۔ اس کے اوپر ارغونی مائل سرخ اور سفید رنگ سے چتکبرانہ نمونہ رنگا گیا ہے۔

لیکن اس اجرک والے ڈیزائن والے اس پتھر کے ستون کا مصرف سمجھ میں نہیں آیا ہے۔ کلی سے ہڈی کے ٹکڑے بھیملے ہیں۔ میہی کی قبروں میں دوسری اشیائ کے ساتھ ساتھ ہڈی کے کیل پڑے ملے ہیں۔ جو صلیبی شکل کے اور ان کے اندر سوراخ بھی کیا گیا ہے۔ کلی سے ہی سونے کا ایک پترا کا ایک ٹکڑا ملا ہے۔

دوسرے ملکوں سے تعلقات

ترمیم

ایسے ثبوت ملے ہیں کہ میسوپوٹیمیا اور ایران سے بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے سامان کا تبادلہ ہوتا تھا۔ اور یہ کہ پاکستانی تاجر سمیر میں جاکر آباد ہو گئے ہوں گے۔ سمیر میں ایک جگہ سے برتن پر بیل کی پوجا کی تصویر ملی ہے۔ یہ قدیم پاکستان کی کسی مذہبی رسم کی عکاس ہے اور ہر گز سمیر چیز نہیں ہے۔ بلکہ بلوچستان سے گئی ہے۔ سمیر کے علاقے دیار میں تل اگراب سے ایک پیالہ ملا ہے کس پر ایک کوہان والے بیل کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ یہ تصویر بھی خالص پاکستانی چیز ہے۔ اس طرح ار سے ایک سلینڈر نما مہر ملی ہے۔ سلینڈر نما مہریں خالص سمیری چیز ہے۔ اس پر جو تصویر ہے وہ پاکستانی بیل کی ہے۔ اس طرح سوسہ سے مٹی کی بنی ہوئی ایک پاکستانی بیل کی مورتی ملی ہے۔ اس مطلب یہ ہے کہ نہ صرف مغربی ایشیائی سے خیالات کا بہاؤ پاکستان کی طرف تھا بلکہ اس کے برعکس بھی تھا۔

کلی ثقافت کی اہمیت

ترمیم

پگٹ کا خیال ہے کہ بحثیت مجموعی کلی ثقافت آمری نال ثقافت سے ذرا بھی مختلف نہیں۔ بلکہ میسوپوٹیمیا اور ایران کی ان قدیم زرعی ثقافت سے زیادہ اختلاف نہیں رکھتی۔ البتہ پگٹ یہ بھی خیال ہے کہ آمری نال ثقافت کی اگر ایران اور میسوپوٹیمیا کی ہم عصر ثقافت مماثلت تلاش کی جائے تو بھی بات زیادہ دور نہیں جاتی۔ اس کے مقابلے میں وادی سندھ کی تہذیب کے کلی ثقافت سے رابطے اور ثقافت پر اس تہذیب کے اثرات بہت زیادہ گہرے نظر آتے ہیں۔ بہ نسبت آمری نال پر ان کے اثرات کے۔ صرف ایک چیز کی کمی ہے وہ ہے پختہ اینٹیں۔ یہ خاص وادی سندھ کی صفت ہے۔ جو جنوبی بلوچستان کے قدیم زمانے میں نظر نہیں آتی ہیں۔ صرف ایک شہر مکران کے علاقے میں پختہ اینٹوں کے مکانات ملے ہیں۔ لیکن قافلوں کی سندھ کے میدانوں سے بلوچستان میں آمد و رفت اور وسیع پیمانے پر تجارت کے وافر ثبوت ان دفینوں سے دستیاب ہوئے ہیں۔ وادی سندھ کے برتنوں کی خاص مقبول عام تصویر۔۔۔ پیپل کے پتے کی شکل۔۔۔ کلی میں خاص کلی تہذیب کے عروج کا زمانہ گذر جانے کے بعد نظر آتی ہے۔ شاہی ٹمپ کے مقام پر جو جھکڑا ملا ہے۔ وہ اسی زمانے کا ہے جب خود وادی سندھ کی تہذیب آخری دموں پر تھے۔ بہر حال یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان، سندھ اور پنجاب ایک ہی نسلی وحدت تھے۔ اسی طرح دوسری طرف آئیں تو سندھ میں ایسی بے شمار چیزیں ملتی ہیں۔ جو کلی ثقافت کے سندھ پر اثرات یا سندھ سے رابطے کا ثبوت مہیا کرتی ہیں۔ مثلاً گنج وادی میں روہیل جو کنڈ اور جھیل منچھر کے قریب غازی شاہ میں کلی ظروف ملے ہیں۔ ان پر کی گئی مصوری کلی اور آمری نال کی ہوبہو نقل نظر آتی ہے۔ یہ ساری باتیں اس چیز کو ظاہر کرتی ہیں کہ نہ صرف اشیائ کا تبادلہ بلوچستان اور سندھ میں ہوتا تھا۔ بلکہ فنی اسالیب اور خیالات کا بھی۔ جدید ترین رائے تو یہ ہے کہ بلوچستان کی یہ قدیم ثقافت اور بعد میں وادی سندھ کی تہذیب ایک ہی تہذیب کا تسلسل ہیں۔

کلی ظروف نال اور نندارہ کے مقامات سے ملنے والے آمری ظروف سے ملتے جلتے ہیں۔ برتنوں کی بناوٹ اور ان پر بنی مصوری کی یہ مماثلت پورے بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔

کلی کی فن تعمیر مظبوطی اور جمالیات دونوں کا اظہار کرتا ہے۔ کلی ظروف چاک پر بنے ہیں۔ جن پر بادامی یا سرخ پانی چڑھایا گیا ہے۔ اس کے اوپر پٹیوں میں مویشیوں یا بکریوں کی تصویریں ہیں۔ جن میں حقیقت کا رنگ گہرا ہے۔ تامبے کے اوزار بنائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ تامبے، لاجورد اور عقیق کے زیورات بنائے اور استعمال کیے جاتے تھے۔ پتھر کی دیواروں والے کنویں بنائے جاتے تھے۔ لوگوں کا پیشہ زراعت تھا۔ جس کے لیے پانی کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ان لوگوں کی زراعت خاصی ترقی یافتہ تھی۔ مردوں کو جلانے رواج زیادہ تھا اور دفنانے کا نسبتاً کم۔ کلی ثقافت کا نمائندہ قبرستان میہی سے ملا ہے۔ جس میں ایک طرف رہائشی آبادی ہے اور قریب شمشان اور قبرستان ہے۔ یہاں سے تامبے کے اوزار، منکے، مٹی کی مورتیاں، پرندوں اور جانوروں کی مورتیاں ملی ہیں۔ کلی میں ارل سٹین نے جو کھدائی کروائی تھی۔ اس میں پتھر کی دیوار سے بنی ایک عمارت کا حصہ ملا ہے۔ جو یا تو مذہبی عبادت تھی یا شاہی محل۔ یہ عمارت زراعت کے ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت ہے۔ زائد پیداوار ہونے کے نتیجے میں دیگر علوم و فنون کی طرقی بھی اسی سے ثابت ہوتی ہے۔ لوگوں کا ذوق جمالیات بہت ترقی یافتہ تھا جو ان کی جملہ مادی تخلیقات میں چھلکتا ہے۔[1]

مزید دیکھیے

ترمیم

کتابیات

ترمیم
  • Possehl, Gregory L. (1986) Kulli: An exploration of ancient civilization in South Asia. Carolina Academic Press, Durham, North Carolina. ISBN 0-89089-173-7
  • Stuart Piggott: Prehistoric India to 1000 B. C., Harmondsworth 1961 (3rd reprint), 98-114

حوالہ جات

ترمیم
  1. یحیٰی امجد، تاریخ پاکستان قدیم دور

بیرونی روابط

ترمیم