آخش، پارسیوں کا ایک مذہبی پیشوا ہے، زرتشت سے بہت پہلے پیدا ہوا تھا۔ اس نے مادہ پرستی کی تعلیم دی۔ وہ مادے کے عناصر اربعہ کو دنیا کا خالق تصور کرتا تھا لیکن اس کے پیروکاروں نے صرف آگ کو پوجنا شروع کر دیا، کیونکہ ظاہر ہے کہ کسی عبادت خانے میں معبود یا اس کو مظہر کے طور پر صرف آگ کی پوجا ہوسکتی تھی۔ آخش کے معبدوں میں رکھی ہوئی آگ کو آذر آخش کہتے ہیں۔ بعد ازاں زرتشت نے اپنی قوم کو اصلاح اور خدائے واحد پر ایمان لانے کی تعلیم دی۔ اس کے خیال میں یہ چار عناصر (مٹی،پانی،ہوا اور آگ) صرف قدرت کے مظاہر ہیں۔ اس لیے ان کا احترام کرنا چاہیے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  • مکمل اسلامی انسائیکلوپیڈیا،مصنف؛مرحوم قاسم محمود،ص-16