آسا (عبرانی: אָסָא، حکم، شفا دینے والا) یہودا کا تیسرا بادشاہ جس نے 913-910 ق م یا 873-869 ق م تک حکومت کی اس وقت عزریاہ بن عود اور حنانی پیغمبرتھے۔آسا اپنے باپ ابیام کے بعد تخت پر بیٹھا۔[1][2] یہ خدا کو پیار کرنے والے یہودا کے پانچ بادشاہوں میں سے پہلا تھا (آسا، یہوسفط، یوآس، حزقیاہ اور یوسیاہ)۔ اُس نے اپنی حکومت کے شروع ہی میں بت پرست ملکہ وادی کو ملکہ کے رتبہ سے معزول کر دیا اور اس کے بُت کو جو اُس نے یسیریت کے لیے بنایا تھا کاٹ ڈالا اس کا دور حکومت (داود اور سلیمان) کے عبد سے مشابہ تھا۔ اسرائیل کی سلطنت سمرائم کی لڑائی کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھی۔ آسا نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور بت پرستی کے ستونوں کو مسمار کرنا شروع کیا اور ان تمام جگہوں کو مرمت کرایا۔ جنھیں شاہ مصر نے اس کے دادا رجعام کے عمد میں برباد کر دیا گیا تھا۔ ۔ پھر اُس نے لوطیوں کو ملک سے نکال دیا اور اپنے باپ دادا کے تمام بتوں کو دور کر دیا۔[3] اُس نے یہودا کو حکم دیا کہ اپنے باپ دادا کے خداوند کے طلب ہوں۔[4] اپنی حکومت کے ابتدائی امن و سلامتی کے دنوں میں اُس وہ تمام چیزیں جو اس کے باپ دادا نے اور اُس نے خود خدا کی نذر کی تھیں ہیکل میں جمع کر دیں۔[5]

آسا
بادشاہ یہودا
Asa of Judah.jpg
آسا
معیاد عہدہتقریباً 911 – 870 ق م
پیشروابیاہ، والد
جانشینیہوسفط، بیٹا
شریک حیاتعزوبہ
خاندانداؤدی گھرانہ
والدابیاہ
والدہانس
پیدائشنامعلوم
وفات870 ق م
یروشلم

تواريخ بابل میں ہے کہ چند سال بعد ایک نیا خطرہ جنوب سے اٹھا۔ ایک اتھیوپین (حبشی) شہزادہ جس کا نام زارح تھا دس لاکھ کی فوج لے کر تین سو گاڑیوں سمیت اس پر چڑھ آیا۔ آسا کی فوج نے صفات کی وادی میں اس کا مقابلہ کیا آخر اسے یقینی شکست فاش دی۔ اور جرار تک ان کا تعاقب کیا۔ اگرچہ ان مقامات کی اصل

جگہ یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ تاہم اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ لڑائی حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق بیان کی جائے رہائش کے قریب ہی کہیں ہوئی تھی۔ جہاں وہ ایک ہزار سال قبل رہا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس لڑائی کا نتیجہ بہت مبارک رہا اور واپس آ کر ہود پیغمبر کی ترغیب پر آسا نے لوگوں کو جمع کیا۔ جن میں شمعون افرائیم اور مسنی کے گھرانوں کے بھی بہت سے لوگ شامل تھےاور اس موقع پر سب نے یہ عہد کیا کہ وہ اپنے باپ دادا کے خدا کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ جب اسرائیل کا بادشاہ بعشاه رامہ کو اس لیے مضبوط کر رہا تھا کہ یہوداہ کی سلطنت کی آمد و رفت شمال کی جانب بند کر دے اس وقت آسان فون کا فوج سے مقابلہ کرنے کے خیال سے آرام کے بادشاہ بن ہدو سے امداد کی درخواست کی اور رشوت دے کر اس سے بعشاہ کی سرحد پر حملہ کرایا۔[6]اپنی حکومت کے انتالیسویں سال میں آسا کے پَیر میں روگ لگ گیا۔ چونکہ وہ خداوند سے رجوع کرنے کی بجائے طبیبوں کا خواہاں ہوا، اس لیے وہ مر گیا۔[7]


حوالہ جاتترميم

  1. 1 سلاطین باب 15 آیت 9 تا 24
  2. 2 تواریخ ابواب 14-16
  3. 1 سلاطین باب 15 آیت 12
  4. 2 تواریخ باب 14 آیت 4
  5. 1 سلاطین باب 15 آیت 15
  6. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا- ص ٤٦، ج اول،از سید قاسم محمود، عطش درانی- مکتبہ شاہکار لاہور
  7. 2 تواریخ باب 16 آیت 11 تا 14