کسی واقعہ کے رونما ہونے کے امکان کو احتمال کہتے ہیں۔ احتمال (احتمال نظریہ) میں واقعات کو عددی احتمال تفویض کیا جاتا ہے (صفر سے ایک تک) یا عام زبان میں فیصدی۔ یہ ریاضی نظریہ مسلمات پر قائم ہے۔ عام زندگی میں تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر واقعات کا احتمال قیاس کیا جا سکتا ہے۔ کسی واقعہ کے بارے کہا جا سکتا ہے، قوی امکان ہے، ضعیف امکان ہے، وغیرہ۔ سائنس میں تجربہ کے ذریعہ واقعہ کے رونما ہونے کے تعدد کا تخمینہ لگا کر اس سے احتمال کا تخمینہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اگر ایک سکہ کو فضا میں بار بار اچھالا جائے اور دیکھا جائے کہ سَر (head) کے بل گرتا ہے یا دُم (tail) کے بل۔ اب عام مشاہدے کی بات ہے کہ سر اور دُم کا امکان برابر اور 50 فیصد ہے۔ اس طرح کے مشاہدات سے انسانی ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ احتمال شاید ایک طبیعیاتی خواص ہے، جو اس مثال میں کھرے سکے کا خاصہ ہے۔ البتہ یہ بات اصل میں غلط ہے۔ احتمال کوئی طبیعیاتی خاصہ نہیں بلکہ ایک ذہنی کفیت ہے جو حالات کے علم سے احتمال کا اندازہ کرتا ہے۔ علم کے مطابق کسی واقعہ کا احتمال مختلف ہو سکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھو بےز مسلئہ اثباتی۔

بعض دفعہ واقعات کا احتمال نکالنے میں ماہرین بھی غلطی کر جاتے ہیں جس کی ایک مثال ٹی وی پروگرام "مانٹی ہال" کے حوالے سے مشہور ہوئی۔[1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. نیویارک ٹائمز، 7 اپریل 2008ء، "Monty Hall Meets Cognitive Dissonance"