اصول دین سے مراد دین کی وہ تعلیمات جن کا تعلق فکر و تفکر سے ہے اس کے مقابلے میں فروع دین ہے، فروع دین، دین کا وہ حصہ جس کا تعلق عمل سے ہے۔ اصول دین کو عقائد بھی کہا جاتا ہے۔ شیعہ، اہل تشیع یا اثنا عشری امامی اور اہل سنت کے نزدیک اصول دین تین ہیں، توحید، نبوت اور قیامت لیکن اہل تشیع کے نزدیک عدل اور امامت اصول مذہب میں سے ہے۔

البتہ اصول دین اور فروع دین کوئی قرآنی یا حدیثی اصطلاح نہیں ہے، علمائے اسلام کے ذہنی اختراعات میں سے ایک ہے، جو تقریبا دوسری صدی میں اختراع کی گئی، لیکن کس نے وضع کی ابھی تک معلوم نہیں ہے۔

قرآن کے نزدیک کئی چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے؛ توحید، نبوت، ملائکہ، کتُب آسمانی اور قیامت.اور خلافت کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں آیا پھر بھی علمائے اسلام خلافت کو اصول دین میں شامل نہ ہونے کے باوجود نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔

حالاں کہ کئی صحابہ خلافت کے منکر تھے، جن میں علی، سعد ابن عبادہ اور صحابیات میں فاطمہ زہرا شامل ہیں۔ البتہ بعض احادیث کے مطابق علی نے چھہ مہینے بعد مجبور ہوکر اکراہا بیعت کی تھی.