مرکزی مینیو کھولیں
  • لفظ توحید کا مطلب اللہ ( خدا ) کو ایک ماننا ہے۔ اس کا اطلاق ذات، صفات اور حقوق تینوں پر ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام کے نزدیک توحید کے معنی یہ ہیں کہ صرف خدا کا وجود ہی وجود اصلی ہے۔ وہی اصل حقیقت ہے۔ باقی سب مجاز ہے۔ دنیاوی چیزیں انسان، حیوان، مناظر قدرت، سب اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ خدا کی ذات واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ لیکن منہج سلف پر قائم محققین صوفیا کی رائے سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اللہ خالق اور باقی سب مخلوق ہیں، دونوں کا حقیقی وجود الگ الگ ہے۔ سلف کے مطابق توحید کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اپنی ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات میں اکیلا اور بے مثال ہے۔ وہ بے نظیر اور لاشریک ہے۔

شہادت توحیدترميم

شہادت توحید سے مراد ہے کہ بندہ دل و زبان سے یہ اقرار کرے کہ اس کائنات کا خالق و مالک صرف اللہ تعالٰیٰ ہے، وہ سب پر فائق ہے، وہ کسی کی اولاد ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ کسی اور کے لیے اس سے بڑھ کر عظمت و رفعت اور شان کبریائی کا تصور بھی محال ہے۔ وہی قادر مطلق ہے اور کسی کو اس پر کوئی طاقت نہیں۔ اس کا ارادہ اتنا قوی اور غالب ہے کہ اسے کائنات میں سب مل کر بھی مغلوب نہیں کر سکتے۔ اس کی قوتیں اور تصرفات حد شمار سے باہر ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے: (النساء، 4 : 171)

ترجمہ: بے شک اللہ ہی یکتا معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی اولاد ہو، (سب کچھ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کا کار ساز ہونا کافی ہے۔

مراتبِ توحیدترميم

توحید کے چار مراتب ہیں، اخروٹ کی طرح اس کے چار حصے ہيں، جیسے (1) مغز (2) مغزکا مغز (3) چھلکا اور (4) چھلکے کا چھلکا۔(اخروٹ کے اوپر دو چھلکے ہوتے ہیں، اس کے اندر ایک مغز ہوتا ہے اور اس میں تیل ہوتا ہے جو مغز کا مغز ہے)

پہلا مرتبہترميم

یہ ہے کہ انسان چھلکے کے چھلکے کی طرح صرف اپنی زبان سے لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُکہے، یہ منافقین کا ایمان ہے، ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔

دوسرا مرتبہترميم

یہ ہے کہ انسان دل سے کلمہ کے معنی کی تصدیق کرے اوریہ عام مسلمانوں کا ایمان ہے۔

تیسرا مرتبہترميم

یہ ہے کہ انسان کشف کے ذریعے ایمان کا مشاہدہ کرے اوریہ مقربین کا مقام ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ وہ کثرتِ اسباب دیکھے لیکن ان سب کو خدائے واحد عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے سمجھے۔

چوتھا مرتبہترميم

یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ تعالیٰ کی جستجو میں رہے، یہ صدیقین کا مشاہدہ ہے، صوفیا کرام کی اصطلاح میں اسے فَنَا فِی التَّوحِیْدکہتے ہیں اوراس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ باطن کے توحید میں مستغرق ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا، حضرت سَیِّدُنا ابو یزیدعلیہ رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کہ مجھے اپنی یاد بھلادی گئی سے یہی مراد ہے ۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. احیاء علوم الدین،ج4،ص304امام غزالی