افسانچہ (مختصر ترین کہانی) SHORT SHORT STORYترميم

انسانی تجربے کو نثری صورت میں کم سے کم لفظوں میں بیان کرنا افسانچہ کہلاتا ہے۔

ادب میں یہ صنف انگریزی ادبیات کے تتبّع سے متعارف ہوئی، جس میں شعور کی رو (Stream Of Consciousness) اور آزاد فکری تلازمے (Free Association Of Thought) کی عمل داری ہوتی ہے۔ شاعری میں مختصر نظم اور نثر میں افسانچہ ایک ہی نوع کی چیزیں ہیں لیکن اُردو ادب میں مقبول نہیں ہو سکیں۔

نمونے کے افسانچےترميم

یہ افسانچے سعادت حسن منٹو کی کتاب سیاہ حاشیے سے لیے گئے ہیں۔

دعوتِ عملترميم

آگ لگی تو سارا محلہ جل گیا ۔۔۔۔ صرف ایک دکان بچ گئی، جس کی پیشانی پر یہ بورڈ آویزاں تھا۔ ۔۔۔۔۔

"یہاں عمارت سازی کا جملہ سامان ملتا ہے۔ "

خبردارترميم

بلوائی مالکِ مکان کو بڑی مشکلوں سے گھسیٹ کر باہر لے آئے، کپڑے جھاڑ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بلوائیوں سے کہنے لگا۔ "تم مجھے مار ڈالو لیکن خبردار جو میرے روپے پیسے کو ہاتھ لگایا۔ "

پیش بندیترميم

پہلی واردات ناکے کے ہوٹل کے پاس ہوئی، فوراً ہی وہاں ایک سپاہی کا پہرہ لگا دیا گیا۔

دوسری واردات دوسرے ہی روز شام کو اسٹور کے سامنے ہوئی، سپاہی کو پہلی جگہ سے ہٹا کر دوسری واردات کے مقام پر متعین کر دیا گیا۔

تیسرا کیس رات کے بارہ بجے لانڈری کے پاس ہوا۔

جب انسپکٹر نے سپاہی کو اس نئی جگہ پہرہ دینے کا حکم دیا تو اس نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا۔ "مجھے وہاں کھڑا کیجیئے جہاں نئی واردات ہونے والی ہے۔ "

حوالہ جاتترميم


1- اَدَبی اصطلاحات از انور جمال طابع نیشنل بُک فاؤنڈیشن-

2- سیاہ حاشیے

مزید دیکھیےترميم


افسانہ