الجحیم (دوزخ کی بھڑکتی اورسخت آگ) یہ آگ کا نام ہے جہنم کے سات درجوں میں سے چٹھے درجے کا نام ہے،یہ قرآن میں 26 مرتبہ استعمال ہوا (قرآن: سورۃ البقرہ:119)(قرآن: سورۃ المائدہ:10،86)
جحیم “” جحم “ (بروزن فہم) کے مادہ سے آگ بھڑکانے کے معنی میں ہے۔ اس وجہ سے حجیم بھڑکتی ہوئی آگ کو کہتے ہیں۔ قرآنی تعبیر میں یہ لفظ عام طور پر دوزخ کے معنی میں آیا ہے۔

جحیم دہکتی ہوئی آگ۔ جحم آگ کے سخت بھڑکنے کو کہتے ہیں (باب سمع) سے آتا ہے۔ جحیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ سخت بھڑکنے والی آگ، دوزخ ۔[1]
ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے ابن مسعود (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ جب دوزخ کے اندر صرف دوامی دوزخی رہ جائیں گے تو ان کو لوہے کے صندقوں میں بند کر دیا جائے گا اور صندوقوں میں لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی۔ پھر ان صندوقوں کو دوسرے آہنی صندوقوں میں بند کر کے جحیم کی تہ میں پھینک دیا جائے گا اور کوئی دوسرے کے عذاب کو نہ دیکھ سکے گا۔ ابو نعیم اور بیہقی نے سوید بن غفلہ کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔[2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد1 صفحہ96 ،علی محمد، سورۃ البقرہ،آیت119،مکتبہ سید احمد شہید لاہور
  2. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی سورۃ الہمزہ