رسالہ قشیریہ

تصوف پر مشہور کتاب
(الرسالۃ القشیریۃ سے رجوع مکرر)

رسالہ قشیریہ یہ شیخ طریقت ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن القشیری نیشا پوری (متوفی 465ھ کی مشہور تصنیف ہے۔

سرورق کتاب روح تصوف اردو ترجمہ الرسالۃ القشیریۃ

رسالہ کی وجہترميم

امام قشیری کی سب سے مشہور کتاب رسالہ قشیریہ ہے جو آپ نے 437ھ میں صوفیا کی جماعت کے لیے لکھا۔ چونکہ بہت مبسوط اور ضخیم نہیں ہے اس لیے "رسالہ کے نام سے موسوم ہے اور مصنف کے نام کی رعایت سے رسالہ قشیریہ" کے نام سے متعارف ہے۔

اہمیت کتابترميم

اگرچہ اس سے پہلے تصوف پر بہت کتابیں لکھی گئیں لیکن کوئی کتاب ایسی نہ تھی جو تصوف کے ہر پہلو کو زیر بحث لائے اس کتاب میں ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا اسی وجہ سے تمام طبقہ میں مقبولیت حاصل ہے

ترتیب کتابترميم

اس کتاب کے ابتدا میں صوفیا کے عقائد پھر اکابر صوفیا کا تعارف اس کے بعد اصطلاحات صوفیا کا ذکر، اس کے بعد احوال واقوال اور تعلیمات کو خوبصورت انداز میں ذکر کیاجبکہ آخر میں کرامات اولیاء اورمرشد و مرید کا تعلق ذکر کیا گیا ہے[1] اللہ تعالی نے اس رسالے کو مقبولیت بخشی دوسرے ممالک کے علاوہ برصغیر پاک و ہند میں چشتیہ سهروردیہ اور قادریہ سلاسل میں اس کو بھی قبولیت حاصل ہوئی۔ ہمیشہ سے یہ کتاب صوفیہ کرام کے مطالعہ میں رہی اور مردان با اخلاص کو اس کے مطالعہ کی تاکید کی جاتی رہی ہے اور بزرگان طریقت اس کا درس دیتے رہے ہیں، بعض ارباب طریقت نے اس پر تعليقات تر فرمائے ہیں اور بعض حضرات نے اس کی شروح بھی لکھی ہیں۔ رسالہ قشیریہ کی زبان عربی ہے اردو میں بھی دستیاب ہے تصنیف، ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری ; ترجمہ، مقدمہ و تعلیقات، پیر محمد حسن ادارہ تحقیقات اسلامی، بین‌الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، 2009[2]

اہمیتترميم

رسالہ قشیریہ تصوف کو اہم کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے ہر چند کہ یہ اوسط تقطیع کے چند جزو کا رسالہ ہے لیکن اس کی جامعیت بہت ہے رسالہ قشیریہ میں اول صوفی کے عقائد بیان کیے گئے ہیں اس کے بعد 83 معروف و مشہور مشائخ کے حالات مختصرأ ضبط تحریر میں لائے گئے ہیں اس کے بعد مصطلحات صوفی" کی تشریح ہے اس کے بعد اب سلوک کے احوال آداب و مقامات کو بیان کیا ہے۔ ضمنأ کرامات اولیاء بھی مذکور ہیں۔ یہ رسالہ ایک مقدمہ اور 13 ابواب پر مشتمل ہے اور دوسرا باب اتباع کتاب اللہ پر مشتمل ہے اس کتاب کا ترجمہ لاہور سے شائع ہو چکا ہے ۔

حوالہ جاتترميم

  1. رسالہ قشیریہ صفحہ 35،مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور2009ء
  2. http://ci.nii.ac.jp/ncid/BB14488916