الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد

ہندوستانی شاعر

الگزینڈر ہیڈرلی آزاد اردو کے مشہور شاعر اور مرزا اسد اللہ خان غالب کے شاگرد تھے۔ الگزینڈر ہیڈرلی نام اور آزاد تخلص تھا۔ باپ کا نام جیمس ہیڈرلی تھا۔ ان کے خاندانی حالات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ ان کے والد انیسویں صدی میں دہلی آئے اور ایک مسلمان عورت سے شادی کی جس کی وجہ سے ہندستانی معاشرت اختیار کی۔ اس لیے آزاد کی پرورش اسلامی طرز پر ہوئی اور مقامی صحبت میں ان میں شعر و سخن کا ذوق پیدا ہوا اور کچھ فطرتاً بھی وہ شاعری کا مذاق رکھتے تھے۔ اس لیے اٹھارہ برس کی عمر میں شعر کہنے لگے۔ جلد ہی ان کے کلام کی شہرت ہو گئی۔

آزاد نواب زین العابدین عارف دہلوی کے شاگرد تھے اور کبھی کبھی مرزا غالب سے بھی خطوط کے ذریعہ اصلاح لیتے تھے۔ آزاد نے اپنے استاد عارف کی تعریف میں ایک قصیدہ اوران کی وفات پر ایک مرثیہ معہ تاریخ وفات لکھا تھا جو ان کے دیوان میں موجود ہے۔

آزاد کو فن طب میں عبور حاصل تھا اور خصوصاً پرانے امراض میں ان کی شہرت تھی۔ آزاد کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ مریضوں کو دوائیں مفت دیا کرتے تھے۔ اس فیاضی کے نتیجے میں ان کا تمام سرمایہ ختم ہو گیا تو مجبوراً ملازمت کرنی پڑی اور انہوں نے ریاست الور میں توپ خانہ کے کپتان کے طور پر ملازمت کر لی۔ لیکن اس ملازمیت کے ایک سال بعد ہی 27 جولائی 1861ء میں آزاد نے بتیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اس طرح ان کا سنہ ولادت 1829ء بنتا ہے۔

آزاد فطرتاً شاعری کا ذوق اور ہمہ گیر طبیعت رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ہر صنف کلام پر خوب طبع آزمائی کی۔ ان کے کلام میں مضامین کی لطافت، الفاظ کی تلاش، محاورات اور ترکیبیں قابل داد ہیں۔ انھوں نے نئے اسلوب میں تشبیہیں اور استعارے استعمال کیے۔ ان کی زبان بالکل صاف اور روانیِ بیان پختہ کار شاعر ہونے کی دلیل ہے۔ آزاد کبھی کبھی آزاد کی بجاے "الک" تخلص استعمال کرتے تھے جو غالباً الکزینڈر کا مخفف ہے۔ نواب سرور الملک کا کہنا ہے کہ آزاد نے غدر کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا اور انہوں نے اپنا نام جان محمد رکھا تھا۔

آزاد کے بڑے بھائی تھامس ہیڈرلی نے آزاد کے دوست میر شوکت علی فتحپوری کی مدد سے آزاد کا کلام جمع کرکے ان کا دیوان ترتیب دیا اور 1869ء میں آگرہ سے شائع کیا۔ آزاد کے بھائی تھامس ہیڈرلی بھی اردو کے اچھے انشا پرداز تھے اور انہوں نے ہی اس دیوان کا دیباچہ لکھا۔ جب کہ فارسی کا دیباچہ شوکت علی نے لکھا۔ اس دیوان میں قصائد، غزلیات، منظوم خطوط، تاریخی قطعات اور تضمین ہیں۔

نمونہ کلامترميم

زہے وحدت وہی دیر حرم میں جلوہ آرہ ہے
ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا
میری صورت سب کہے دیتی ہے ہے میرا رزا دل
میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ بدظن ہو گیا
سوزش دل نے الہی کونسی کی تھی کمی
جلانے کو میرے داغ جگر پید ا ہوا
تمام عمر رہا سبھوں سے بیگانہ
رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا
حریص مایہ ہستی تھا کس قدر آزاد
تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا
بزم میں اٹھتے ہی ان کے روئے روشن سے نقاب
جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا
نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا
ہزار مشکل سے بارے رخ سے اس نے الٹا نقاب آدھا
خدا کی قدرت ہے ورنہ آزاد میرا اور ان بتوں کا جھگڑا
نہ ہوگا فیصل تمام دن مگر بروز حساب آدھا

حوالہ جاتترميم

  • تذکرہ یورپین شعرا۔ محمد سردار علی