امیر السالکین پیر امیر شاہ بھیروی دیوان فتح شاہ کی اولاد سے سلسلہ نظامیہ کی بھیرہ میں بنیاد رکھنے والے پیر محمد کرم شاہ الازہری کے دادا ہیں۔

ولادتترميم

پیر امیر شاہ کی ولادت 1837ء میں بھیرہ ضلع سرگودھا میں ہوئی والد کا نام پیر شاہ بھیرہ تھا آ پ کا خاندان علم اور دین داری کی وجہ سے مشہور تھا ۔

سلسلہ نسبترميم

ان کا سلسلہ نسب 19 وسطوں سے شیخ بہاالدین زکریا ملتانی سے ملتا ہے۔

سلسلہ بیعتترميم

پیر امیر شاہ بھیروی سلسلہ قادریہ میں پیر بہادر شاہ گیلانی بھیروی سے بیعت تھے اورپھر آپ کا تعلق سرگودھا کی ایک چھوٹی سی بستی ’’سیال شریف‘‘ میں خواجہ شمس العارفین شمس الدین سیالوی سے ہوا۔ سیال شریف حاضرہو کر بیعت کے بعد تربیت باطنی کی منازل طے کرتے ہوئے خرقہ خلافت حاصل کیا اور بھیرہ شریف میں سلسلہ کی بنیاد رکھی ۔

سیرت و خصائلترميم

آپ ساری رات دریائے جہلم کے کنارے نوافل میں مصروف رہتے۔ ساری رات کی شب بیداری کے باوجود دن بھر کے معمولات متاثر نہ ہوتے بلکہ مخلوق خدا کے ساتھ پیار، محبت اور اخلاق کے ساتھ پیش آتے۔ رب کریم کی رضا کے لیے اپنے کسی مخالف سے بھی بدلہ نہ لیا بلکہ تنگ کرنے والوں کو بھی دعائے خیر سے نوازتے۔ اﷲ کریم نے آپ کے شب وروز کی عبادت اور ریاضت کے نتیجہ میں آپ کی زبان میں اس قدر تا ثیر رکھی تھی کہ فقط چند کلمات سے بگڑے ہوئے کے لوگوں کے مقدر بدل ڈالے۔

اولادترميم

اولاد میں تین بیٹے تھے : پیر صدیق شاہ، حافظ محمد شاہ اور پیر فتح شاہ۔ ان میں سے اپنا جانشین حافظ محمد شاہ کو بنایا۔ آپ کے جانشین اور تربیت یافتہ غازی اسلام پیر محمد شاہ نے ان کرنے کی خاطر محمدیہ غوثیہ کے نام سے پرائمریاسکول بنایاجس سے علاقہ میں علم کی روشنی پھیلی۔آپ ایک باکرامت بزرگ تھے اور روحانی تصرف سے کئی مرتبہ اپنے مریدوں کی راہنمائی فرمائی۔

وفاتترميم

امیر شاہ بھیروی کی وفات 10 جمادی الثانی 1346ھ بمطابق 6 دسمبر 1927ء کو بھیرہ 90 سال کی عمرمیں ہوئی اسی روز آپ کا عر س مبارک پوری عقیدت اور مذہبی پابندیوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. تذکرہ اکابرِ اہلِسنت صفحہ 95،محمد عبد الحکیم شرف قادری، نوری کتب خانہ لاہور